کراچی: بچے کو بچاتے ہوئے جاں بحق شہری کے کیس میں کے الیکٹرک پر ایک کروڑ 35 لاکھ روپے جرمانہ

0
12
کراچی: بچے کو بچاتے ہوئے جاں بحق شہری کے کیس میں کے الیکٹرک پر ایک کروڑ 35 لاکھ روپے جرمانہ

کراچی: سٹی کورٹ کراچی نے بارش کے دوران ایک بچے کو بچاتے ہوئے کرنٹ لگنے سے جاں بحق ہونے والے شہری شیخ سعد احمد کے کیس میں کے الیکٹرک کو غفلت کا مرتکب قرار دیتے ہوئے ایک کروڑ 35 لاکھ روپے ہرجانہ ادا کرنیکا حکم دیدیا۔

سینیئر سول جج وسطی کی عدالت نے اپنے فیصلے میں ہدایت کی کہ ہرجانے کی رقم 90 روز کے اندر مرحوم کے اہلخانہ کو ادا کی جائے۔

عدالت میں دائر درخواست کے مطابق شیخ سعد احمد 2019 میں بارش کے دوران ایک بچے کو بجلی کے کھمبے سے لگنے والے کرنٹ سے بچانے کی کوشش کررہے تھے کہ اس دوران خود بھی کرنٹ لگنے سے جاں بحق ہوگئے۔

درخواست گزار کے وکیل عثمان فاروق ایڈووکیٹ نے مؤقف اختیار کیا کہ علاقہ مکینوں نے پہلے ہی بجلی کے کھمبے میں کرنٹ ہونے کی شکایت متعلقہ ادارے کو کی تھی، تاہم بروقت اور مؤثر کارروائی نہیں کی گئی۔

درخواست میں کہا گیا کہ مرحوم شیخ سعد احمد اپنے خاندان کے واحد کفیل تھے اور ملازمت کے ساتھ اپنی تعلیم اور گھریلو اخراجات بھی برداشت کررہے تھے۔

دوسری جانب کے الیکٹرک کے وکیل نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ متعلقہ پول ادارے کی ملکیت نہیں تھا اور اس پر نجی جنریٹر، ٹیلی فون اور کیبل کی تاریں بھی موجود تھیں۔ وکیل کے مطابق کرنٹ جنریٹر کی تاروں سے خارج ہوا جبکہ ادارے کی تنصیبات محفوظ تھیں۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ بجلی فراہم کرنے والے اداروں پر عوام کے تحفظ کی غیر معمولی ذمہ داری عائد ہوتی ہے اور کھمبے پر دیگر تاروں کی موجودگی ادارے کو ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں کرسکتی۔

عدالت نے مزید قرار دیا کہ عوامی مقام پر نصب بجلی کے پول میں کرنٹ کا موجود ہونا بذاتِ خود غفلت کا ثبوت ہے، جبکہ انسانی جان بچانے کی کوشش کو مکمل غفلت قرار نہیں دیا جاسکتا۔

عدالت نے جان لیوا حادثات ایکٹ کے تحت کے الیکٹرک کو ایک کروڑ 35 لاکھ روپے بطور ہرجانہ ادا کرنے کا حکم جاری کردیا۔

Leave a reply