ہائی بلڈ پریشر: گردوں کے لیے خاموش خطرہ

0
62
ہائی بلڈ پریشر: گردوں کے لیے خاموش خطرہ

ہائی بلڈ پریشر کو عام طور پر “خاموش قاتل” کہا جاتا ہے، لیکن یہ سب سے زیادہ گردوں کے لیے نقصان دہ ثابت ہوتا ہے۔ اگرچہ لوگ اکثر اسے دل کے امراض یا فالج سے جوڑتے ہیں، مگر حقیقت میں اس کا سب سے پہلا اثر گردوں کی باریک فلٹرنگ نلیوں پر پڑتا ہے۔
ماہرین کے مطابق ہائی بلڈ پریشر گردوں کے چھوٹے فلٹرنگ یونٹس، یعنی گلومیریولی، کو نقصان پہنچاتا ہے۔ مسلسل زیادہ فشار خون ان فلٹرز پر دباؤ ڈال کر دیواریں موٹی کر دیتا ہے اور فلٹرنگ کی صلاحیت کمزور کر دیتا ہے۔ نتیجتاً کئی یونٹس وقت کے ساتھ ناکارہ ہو جاتے ہیں۔
گردوں کی بیماری کی ابتدائی علامات اکثر نظر انداز کر دی جاتی ہیں۔ کچھ عام اشارے شامل ہیں:
پیشاب میں غیر معمولی جھاگ، جو پروٹین کے لیک ہونے کی نشاندہی کرتی ہے
جسمانی سوجن، خاص طور پر ٹخنوں، پیروں یا آنکھوں کے گرد
غیر معمولی تھکن یا متلی
ماہرین تجویز کرتے ہیں کہ ہائی بلڈ پریشر کے مریض سال میں کم از کم ایک بار گردوں کے افعال اور پیشاب کا تفصیلی معائنہ ضرور کروائیں۔ صرف ادویات سے بلڈ پریشر کنٹرول کرنا کافی نہیں، کیونکہ بیماری برسوں تک خاموشی سے گردوں کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔
مزید برآں، غذائی احتیاط بھی ضروری ہے۔ زیادہ نمک، پراسیسڈ اور پیک شدہ کھانے گردوں پر اضافی دباؤ ڈال سکتے ہیں۔ نمک کم کرنے کا مطلب صرف شیکر میں نمک کم کرنا نہیں بلکہ چھپے ہوئے نمک کے ذرائع، جیسے اچار، چٹنیاں اور تیار کھانے، پر بھی دھیان دینا ہے۔
ہائی بلڈ پریشر اور گردوں کے درمیان تعلق کو طبی تحقیق میں “کارڈیو رینل کنکشن” کہا جاتا ہے۔ دل اور گردے ایک دوسرے سے جڑے ہوئے نظام کے حصے ہیں، اور ایک کا مسئلہ دوسرے پر اثر ڈال سکتا ہے۔
صحت مند گردے اور دل کے لیے وقتاً فوقتاً ٹیسٹ کروانا، خوراک کا توازن اور بلڈ پریشر پر مسلسل نگہداشت ضروری ہے۔

Leave a reply