سپریم کورٹ: ریسکیو 1122 کے ملازمین سول سرونٹس نہیں، سروس ٹربیونل کا اختیار نہیں

0
70
سپریم کورٹ: ریسکیو 1122 کے ملازمین سول سرونٹس نہیں، سروس ٹربیونل کا اختیار نہیں

اسلام آباد: سپریم کورٹ نے حالیہ فیصلے میں واضح کیا ہے کہ ریسکیو 1122 اور پنجاب ایمرجنسی سروس کے ملازمین سول سرونٹس کی تعریف میں شامل نہیں ہوتے اور ان کے سروس معاملات میں پنجاب سروس ٹربیونل کا کوئی اختیار نہیں ہے۔
عدالت نے پنجاب سروس ٹربیونل کا حکم کالعدم قرار دیتے ہوئے حکومت کی اپیلیں منظور کر لی ہیں۔ یہ فیصلہ جسٹس عائشہ ملک نے تحریر کیا۔
سپریم کورٹ کے مطابق ریسکیو 1122 کے ملازمین ایک منفرد قانونی فریم ورک اور رولز 2007 کے تحت کام کرتے ہیں، اور 2021 کی ترمیم کے بعد بھی یہ محکمہ ایک آزاد قانونی ادارے کے طور پر کام کر رہا ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ محض یہ کہ کوئی ادارہ سرکاری محکمہ ہے، اس کے ملازمین خود بخود سول سرونٹس نہیں بن جاتے۔
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ریسکیو 1122 صوبہ پنجاب کے 37 اضلاع اور تحصیلوں میں ایمرجنسی خدمات فراہم کرتا ہے اور عوامی تحفظ، ہنگامی حالات اور آفات کے دوران جان و مال کے تحفظ کے لیے مختلف قسم کی ریسکیو خدمات انجام دیتا ہے۔
عدالتی فیصلے میں یہ بھی بتایا گیا کہ سروس ٹربیونل کو ایمرجنسی سروس کے ملازمین کے خلاف مقدمات سننے کا اختیار نہیں ہے۔ معاملہ ایک ڈرائیور کے خلاف محکمانہ کارروائی سے متعلق تھا، جس کے بارے میں سروس ٹربیونل نے ریگولر انکوائری کو کالعدم قرار دے کر دوبارہ انکوائری کا حکم دیا تھا۔
سپریم کورٹ نے واضح کیا کہ ریسکیو 1122 کے ملازمین کا قانونی حیثیت سول سرونٹس سے مختلف ہے، اور ایمرجنسی سروس کے معاملات کے لیے الگ قانونی دائرہ کار موجود ہے۔

Leave a reply