ایران کے بیلسٹک میزائلوں میں کلسٹر وارہیڈز کے استعمال سے متعلق اسرائیلی خدشات میں اضافہ

0
18
ایران کے بیلسٹک میزائلوں میں کلسٹر وارہیڈز کے استعمال سے متعلق اسرائیلی خدشات میں اضافہ

بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران کے بعض بیلسٹک میزائلوں میں کلسٹر وارہیڈز کے استعمال نے اسرائیل کی سکیورٹی کے حوالے سے نئی تشویش پیدا کر دی ہے۔

رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ ایسے میزائل ہدف تک پہنچنے سے پہلے فضا میں ہی اپنے وارہیڈ سے متعدد چھوٹے دھماکا خیز مواد الگ کر دیتے ہیں۔ یہ چھوٹے بم مختلف سمتوں میں پھیل کر وسیع علاقے میں گرتے ہیں جس کے باعث نقصان کا دائرہ بڑھ سکتا ہے۔

اسرائیلی فوجی حکام کے مطابق میزائل بلند فضا میں پہنچ کر کئی سب میونیشنز خارج کرتے ہیں جو زمین پر گرنے کے بعد مختلف مقامات پر دھماکے کر سکتے ہیں۔ ان کے مطابق رات کے وقت یہ چھوٹے بم آسمان میں چمکتے ذرات کی شکل میں دکھائی دیتے ہیں اور ایک ہی وقت میں کئی مقامات پر دھماکے ہو سکتے ہیں۔

فوجی ذرائع کا کہنا ہے کہ حالیہ کشیدگی کے دوران ایران کی جانب سے فائر کیے جانے والے بعض بیلسٹک میزائل ممکنہ طور پر کلسٹر میونیشنز سے لیس ہو سکتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق ایک میزائل سے متعدد چھوٹے دھماکا خیز مواد گرنے کے باعث جانی و مالی نقصان کے خدشات بڑھ جاتے ہیں۔ دفاعی نظام کے لیے انہیں روکنا بھی مشکل ہو سکتا ہے کیونکہ ان کا حجم چھوٹا اور رفتار زیادہ ہوتی ہے۔

دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس حکمت عملی کا مقصد مخالف کے دفاعی نظام کو بیک وقت کئی اہداف سے مصروف رکھنا اور میزائل انٹرسیپٹرز کے زیادہ استعمال پر مجبور کرنا بھی ہو سکتا ہے، جس سے مالی اور نفسیاتی دباؤ میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

رپورٹس کے مطابق ایران کے بعض بیلسٹک میزائل درجنوں چھوٹے بم لے جانے کی صلاحیت رکھتے ہیں، جبکہ طاقتور خرمشہر میزائل میں اس سے زیادہ سب میونیشنز نصب کیے جا سکتے ہیں۔ ہر سب میونیشن میں کئی پاؤنڈ دھماکا خیز مواد موجود ہوتا ہے جو زمین پر گرنے کے بعد شدید دھماکے کا سبب بن سکتا ہے۔

Leave a reply