سانحہ بھاٹی گیٹ کیس: ورثا کی معافی کے بعد گرفتار ملزمان رہا

0
54
سانحہ بھاٹی گیٹ کیس: ورثا کی معافی کے بعد گرفتار ملزمان رہا

لاہور کے تاریخی علاقے بھاٹی گیٹ میں پیش آنے والے افسوسناک واقعے سے متعلق کیس میں ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ سیوریج لائن میں گر کر جاں بحق ہونے والی خاتون اور اس کی کمسن بیٹی کے ورثا نے ملزمان کو معاف کر دیا ہے، جس کے بعد عدالت نے گرفتار افراد کی ضمانت منظور کر لی۔
سانحہ بھاٹی گیٹ کیس کی سماعت جوڈیشل مجسٹریٹ شفقت عباس نے کی، جہاں مقدمے کے مدعی نے عدالت میں اپنا بیان قلمبند کرایا۔ مدعی نے بتایا کہ انہوں نے اللہ کی رضا کے لیے ملزمان کو معاف کر دیا ہے اور اب وہ مزید کسی قانونی کارروائی کے خواہاں نہیں ہیں۔
مدعی کے مطابق اگر ملزمان کو رہا یا مقدمے سے خارج کیا جاتا ہے تو انہیں اس پر کوئی اعتراض نہیں ہوگا۔ فریقین کے درمیان صلح کے بعد عدالت نے قانونی تقاضے مکمل کرتے ہوئے گرفتار کیے گئے پانچوں ملزمان کو رہا کرنے کا حکم جاری کر دیا۔
واضح رہے کہ یہ واقعہ چند روز قبل اس وقت پیش آیا تھا جب ایک خاتون اپنی بیٹی کے ہمراہ کھلے سیوریج ہول میں گر کر جان سے ہاتھ دھو بیٹھیں۔ واقعے نے شہر بھر میں تشویش کی لہر دوڑا دی تھی اور شہریوں کی جانب سے انتظامی غفلت پر شدید تنقید کی گئی تھی۔
ابتدائی طور پر واقعے کے بعد حکام کی جانب سے مختلف مؤقف سامنے آئے، حتیٰ کہ یہ دعویٰ بھی کیا گیا کہ تکنیکی اعتبار سے کسی شخص کا اس سیوریج ہول میں گرنا ممکن نہیں۔ بعد ازاں پولیس پر بھی الزام لگایا گیا کہ معاملے کو گھریلو جھگڑے کا رنگ دینے کی کوشش کی گئی اور متاثرہ خاتون کے شوہر پر دباؤ ڈالا گیا۔
دورانِ تفتیش متاثرہ خاندان کی جانب سے یہ الزام بھی سامنے آیا کہ پولیس اہلکاروں نے خاتون کے والد سے زبردستی سادہ کاغذات پر انگوٹھے لگوائے۔ اس حوالے سے ایک ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر گردش کرتی رہی، جس میں اہلِ خانہ شفاف تحقیقات کا مطالبہ کرتے دکھائی دیے۔
واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے وزیر اعلیٰ پنجاب نے متعلقہ افسران کے خلاف کارروائی کا حکم دیا تھا، جس کے بعد بعض ذمہ دار افراد کو گرفتار بھی کیا گیا۔ تاہم اب ورثا کی جانب سے معافی اور صلح کے بعد عدالت نے تمام گرفتار ملزمان کی رہائی کا حکم دے دیا ہے۔

Leave a reply