
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے 8 فروری 2024 کے عام انتخابات میں مبینہ دھاندلی کے خلاف ملک گیر احتجاج کا آغاز کیا ہے۔ پارٹی کے بانی عمران خان کی کال پر ہونے والے احتجاج میں شٹر ڈاؤن اور پہیہ جام شامل ہیں۔ پی ٹی آئی نے اس احتجاج کو پرامن رکھنے پر زور دیا ہے اور عوام سے دن بھر گھروں میں رہنے، نماز ادا کرنے اور بعد ازاں موبائل لائٹ یا مشعل کے ساتھ ریلیوں میں حصہ لینے کی ہدایت کی ہے۔
خیبر پختونخوا میں مختلف شہروں میں احتجاج کی مختلف صورتیں دیکھنے کو ملی ہیں۔ پشاور میں پیدل مارچ کا انعقاد ہوا، بنوں میں پہیہ جام ہڑتال کے ساتھ ریلیاں نکلیں، جبکہ ہنگو میں احتجاج کمزور رہا کیونکہ منتخب نمائندے موجود نہیں تھے۔ ہری پور میں مکمل شٹر ڈاؤن اور پہیہ جام رہا، جس سے شہریوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
تاہم، باڑہ اور لوئر اورکزئی میں وادی تیراہ کے متاثرین کی نقل مکانی اور مقامی قیادت کی غیر موجودگی کے باعث ہڑتال مؤثر نہ ہو سکی اور مارکیٹیں کھلی رہیں۔
پی ٹی آئی کا موقف ہے کہ انتخابات میں بے ضابطگیاں ہوئیں اور اس کا مینڈیٹ چوری کیا گیا، اور احتجاج کا مقصد عوامی مینڈیٹ کے تحفظ اور سیاسی قیدیوں کی رہائی ہے۔








