خاموشی سے اڑان بھرنے والا طیارہ، دنیا کی نظریں اچانک پاکستان پر کیوں جم گئیں؟

0
48
خاموشی سے اڑان بھرنے والا طیارہ، دنیا کی نظریں اچانک پاکستان پر کیوں جم گئیں؟

پاکستان اور چین کے اشتراک سے تیار کیے گئے ملٹی رول لڑاکا طیارے جے ایف 17 تھنڈر میں عالمی سطح پر دلچسپی میں نمایاں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ حالیہ مہینوں میں مختلف ممالک کی جانب سے اس طیارے کی خریداری یا دفاعی تعاون کے امکانات سامنے آئے ہیں، جن میں عراق، بنگلہ دیش اور مشرقِ وسطیٰ کے چند دیگر ممالک شامل ہیں۔
پاکستانی فضائیہ کے سربراہ ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو کے حالیہ دورۂ عراق اور سعودی عرب کے دوران دفاعی تعاون پر تفصیلی بات چیت ہوئی۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق عراقی فضائیہ نے نہ صرف پاکستان ایئرفورس کی پیشہ ورانہ تربیت میں دلچسپی ظاہر کی بلکہ جے ایف 17 تھنڈر کو اپنے فضائی بیڑے میں شامل کرنے کے امکان پر بھی غور کیا۔
اسی طرح بنگلہ دیش ایئر فورس کے سربراہ نے حالیہ دورۂ پاکستان کے دوران جے ایف 17 بلاک تھری میں دلچسپی کا اظہار کیا، تاہم تاحال کسی باضابطہ معاہدے کا اعلان نہیں کیا گیا۔
علاقائی کشیدگی کے بعد طیارے کی ساکھ میں اضافہ
جے ایف 17 تھنڈر کو عالمی توجہ اس وقت مزید حاصل ہوئی جب حالیہ برسوں میں خطے میں ہونے والی محدود عسکری جھڑپوں کے دوران اس طیارے کی عملی صلاحیتیں سامنے آئیں۔ دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق کسی لڑاکا طیارے کا حقیقی جنگی ماحول میں آزمودہ ہونا خریدار ممالک کے لیے ایک اہم عنصر ہوتا ہے، اور جے ایف 17 اس معیار پر پورا اترتا ہے۔
یہ طیارہ ماضی میں انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں، سرحدی نگرانی اور مربوط فضائی آپریشنز میں استعمال ہو چکا ہے، جس سے اس کی آپریشنل افادیت ثابت ہوئی ہے۔
جے ایف 17 تھنڈر: ایک جدید 4.5 جنریشن فائٹر
جے ایف 17 تھنڈر ایک جدید، ہلکا وزن، ہر موسم میں مؤثر کارکردگی دکھانے والا ملٹی رول لڑاکا طیارہ ہے، جسے پاکستان ایرو ناٹیکل کمپلیکس اور چین کی چینگڈو ایئرکرافٹ انڈسٹری کارپوریشن نے مشترکہ طور پر تیار کیا ہے۔ اس منصوبے کے تحت طیارے کی تیاری کا بڑا حصہ پاکستان میں کیا جاتا ہے، جبکہ چین تکنیکی معاونت فراہم کرتا ہے۔
اس کا جدید ترین بلاک تھری ورژن ایکٹیو الیکٹرانکلی اسکینڈ ایرے (AESA) ریڈار، جدید الیکٹرانک وارفیئر سسٹمز، طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں اور ہیلمٹ ماونٹڈ ڈسپلے جیسی جدید سہولیات سے لیس ہے۔ یہ خصوصیات اسے 4.5 جنریشن کے لڑاکا طیاروں کی صف میں کھڑا کرتی ہیں۔
موجودہ صارف ممالک
اس وقت جے ایف 17 تھنڈر پاکستان کے علاوہ آذربائیجان، نائیجیریا اور میانمار کی فضائی افواج میں شامل ہے۔ آذربائیجان نے حالیہ برسوں میں بلاک تھری ورژن کو اپنے دفاعی نظام کا حصہ بنایا اور قومی پریڈ میں بھی ان طیاروں کی نمائش کی۔
دفاعی حلقوں کے مطابق افریقہ، مشرقِ وسطیٰ اور ایشیا کے چند دیگر ممالک بھی کم لاگت، جدید صلاحیتوں اور آپریشنل تجربے کی وجہ سے جے ایف 17 میں دلچسپی رکھتے ہیں، تاہم کئی معاملات ابھی ابتدائی یا غیر مصدقہ مراحل میں ہیں۔
پاک چین دفاعی تعاون کی علامت
جے ایف 17 تھنڈر کو پاکستان اور چین کے درمیان دفاعی تعاون کی ایک نمایاں مثال قرار دیا جاتا ہے۔ اس منصوبے کا آغاز 1999 میں ہوا، پہلی پرواز 2003 میں کی گئی اور 2007 میں یہ طیارہ باضابطہ طور پر پاکستان فضائیہ کا حصہ بنا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ جے ایف 17 نہ صرف پاکستان کی فضائی دفاعی ضروریات پوری کر رہا ہے بلکہ یہ ملک کی دفاعی برآمدات اور اسٹریٹجک سفارت کاری میں بھی اہم کردار ادا کر رہا ہے۔

Leave a reply