اذان دینے والی نسل کا ایک اور چراغ بجھ گیا

اذان دینے والی نسل کا ایک اور چراغ بجھ گیا

تحریر:ثمینہ رضوان

مدینہ منورہ کی فضا بعض اوقات خود بولنے لگتی ہے۔ وہاں کی ہوائیں یادیں سنبھال کر رکھتی ہیں، اور جب کوئی صدا ہمیشہ کے لیے خاموش ہو جائے تو یہ خاموشی بھی بہت کچھ کہہ جاتی ہے۔ شیخ فیصل نعمانؒ کی وفات بھی ایسی ہی ایک خاموشی ہے—جو سنائی نہیں دیتی، مگر دل میں اتر جاتی ہے۔
پچیس برس تک مسجد نبویﷺ کی فضا میں گونجنے والی وہ روح پرور اذان، جس میں عقیدت، خشوع اور نسلوں کی وراثت سمٹی ہوئی تھی، آج صرف یاد بن کر رہ گئی ہے۔ یہ محض ایک مؤذن کی جدائی نہیں، یہ اُس آواز کا رخصت ہو جانا ہے جو لاکھوں دلوں کو نماز کی طرف بلاتی تھی، جو نیند، غفلت اور دنیاوی مصروفیات کے پردے چاک کر کے بندے کو اس کے رب کے سامنے لا کھڑا کرتی تھی۔
شیخ فیصل نعمانؒ کی اذان میں ایک عجیب سا ٹھہراؤ تھا۔ نہ وہ صرف بلند آواز تھی، نہ صرف خوش الحانی—وہ ایک احساس تھی۔ ایسا لگتا تھا جیسے ہر لفظ دل سے نکل کر دل تک پہنچ رہا ہو۔ “اللہ اکبر” میں یقین بولتا تھا، “حی علی الصلوٰۃ” میں محبت، اور “حی علی الفلاح” میں امید۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی آخری اذان کی ویڈیو نے دنیا بھر کے مسلمانوں کی آنکھوں کو نم کر دیا۔ یہ آنسو کسی اجنبی کے نہیں تھے، یہ اپنے کسی بہت قریبی کے بچھڑنے کے آنسو تھے۔
یہ بھی اللہ کی خاص عطا ہے کہ کچھ لوگوں کو خدمتِ دین وراثت میں ملتی ہے۔ شیخ فیصل نعمانؒ کا خاندان صدیوں نہیں، مگر نسلوں سے اذان کی امانت اٹھائے ہوئے تھا۔ والد، دادا، اور پھر خود وہ—جیسے ایک ہی چراغ سے دوسرے چراغ جلتے رہے ہوں۔ ان کے والد کا صرف 14 برس کی عمر میں مؤذن مقرر ہونا اور نوّے برس سے زائد عمر تک اس خدمت پر قائم رہنا اس بات کی گواہی ہے کہ اللہ جسے چاہے اپنے گھر کی خدمت کے لیے چن لیتا ہے۔ اور جب والد کے بعد بیٹے نے یہ ذمہ داری سنبھالی تو ایسا محسوس ہوا کہ روایت ٹوٹی نہیں، بلکہ اور نکھر گئی۔
فجر کی نماز کے بعد جنت البقیع میں تدفین—یہ بھی کتنی بڑی سعادت ہے۔ وہ جنت البقیع جہاں تاریخِ اسلام کے روشن ترین نام آرام فرما ہیں، جہاں صحابہ کرامؓ، اہلِ بیتؓ اور امہات المؤمنینؓ مدفون ہیں۔ ایسی جگہ پر آخری آرام پانا ہر کسی کے نصیب میں نہیں ہوتا۔ یہ گویا اس بات کی خاموش تصدیق ہے کہ مرحوم کی زندگی بھی اللہ کے نزدیک قبولیت کا درجہ رکھتی تھی۔
شیخ ڈاکٹر عبدالرحمن السدیس کا تعزیتی بیان صرف رسمی الفاظ نہیں تھا، بلکہ ایک ادارے کی طرف سے اپنے ایک مخلص خادم کو الوداع کہنے کا اظہار تھا۔ “ناقابلِ فراموش خدمات”—واقعی، کچھ خدمات وقت کے ساتھ مٹتی نہیں، بلکہ یادوں میں عبادت بن جاتی ہیں۔
آج مدینہ منورہ سوگوار ہے، مگر یہ سوگ ناامیدی کا نہیں۔ یہ شکر اور جدائی کے ملے جلے جذبات کا سوگ ہے۔ اذان دینے والا چلا گیا، مگر اذان باقی ہے۔ آواز خاموش ہو گئی، مگر اثر زندہ ہے۔ وہ صدا اب بھی لوگوں کے دلوں میں گونجتی ہے، خاص طور پر اُن لمحوں میں جب مسجد نبویﷺ کی طرف نگاہ اٹھتی ہے اور دل خود بخود بھر آتا ہے۔
کچھ لوگ دنیا سے جاتے ہیں تو صرف ایک خبر بن کر رہ جاتے ہیں، اور کچھ لوگ رخصت ہوتے ہیں تو تاریخ، دلوں اور دعاؤں میں زندہ ہو جاتے ہیں۔ شیخ فیصل نعمانؒ بھی انہی خوش نصیب لوگوں میں سے ہیں۔ ان کی اذان اب سنائی نہیں دیتی، مگر وہ ایمان کے کانوں میں ہمیشہ گونجتی رہے گی۔
اللہ تعالیٰ مرحوم کو اپنی رحمتِ کاملہ میں جگہ عطا فرمائے، جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام دے، اور ہمیں یہ سبق عطا کرے کہ اصل کامیابی شہرت میں نہیں، بلکہ خلوص کے ساتھ ادا کی گئی خدمت میں ہے۔ آمین۔

Leave a reply