
اوپن اے آئی نے اپنا جدید ترین مصنوعی ذہانت کا ماڈل GPT-5.2 متعارف کرا دیا ہے، جو کمپنی کے مطابق کارکردگی، درستگی اور پیچیدہ کاموں کی تکمیل کے لحاظ سے اپنے پچھلے ورژن GPT-5.1 سے کہیں بہتر ہے۔
حالیہ مہینوں میں گوگل جیمنائی کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کے باعث اوپن اے آئی نے اپنے ماڈلز میں تیزی سے بہتری لانے پر توجہ دی ہے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ GPT-5.2 زیادہ مستحکم اور قابلِ بھروسہ نتائج فراہم کرتا ہے اور مشکل ترین سوالات کو بھی مرحلہ وار تقسیم کر کے مؤثر انداز میں حل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
نئے ماڈل میں بڑی میموری شامل کی گئی ہے، جس کے ذریعے صارف پورے پراجیکٹ فولڈرز، تحقیقاتی رپورٹس، قانونی دستاویزات، سائنسی پیپرز اور دیگر طویل فائلیں ماڈل میں شامل کر سکتے ہیں، اور سسٹم تفصیلات کو مستقل طور پر ٹریک بھی کرتا رہتا ہے۔ اس اپ گریڈ کی بدولت چارٹس، ڈایاگرامز، کوڈ اور پیچیدہ سافٹ ویئر اسٹرکچر کو سمجھنے کی صلاحیت بھی بہتر ہو گئی ہے۔
GPT-5.2 کو Instant، Thinking اور Pro موڈز میں پیش کیا گیا ہے۔ کمپنی کے سی ای او سام آلٹمین کے مطابق یہ ماڈل اس وقت دستیاب سب سے ”ذہین اور قابل“ اے آئی سسٹم ہے، جو نہ صرف چیٹ جی پی ٹی میں بلکہ API کے ذریعے بھی مہیا کیا گیا ہے۔
اوپن اے آئی کا کہنا ہے کہ اس ماڈل میں غلطیوں کا امکان کم کر دیا گیا ہے، اور اگر کوئی خامی ہو بھی تو اسے درست کرنا پہلے کے مقابلے میں زیادہ آسان ہوگا۔
GPT-5.2 کو آہستہ آہستہ ChatGPT Plus، Pro، Go، Business اور Enterprise صارفین کے لیے جاری کیا جا رہا ہے۔ کمپنی نے اعلان کیا ہے کہ آنے والے تین ماہ میں GPT-5.1 تک رسائی ختم کر د
ی جائے گی۔








