. امریکی حکام کی کارروائی: برطانوی تجزیہ کار حراست میں

0
99
. امریکی حکام کی کارروائی: برطانوی تجزیہ کار حراست میں

امریکی امیگریشن حکام نے برطانوی تجزیہ کار اور سیاسی مبصر سامی حمدی کو امریکی دورے کے دوران حراست میں لے لیا ہے۔ ان کا ویزا منسوخ کر دیا گیا اور انہیں امریکا سے نکالنے کا اعلان کیا گیا ہے۔

وزارتِ داخلہ کی سیکیورٹی کے ترجمان ٹریشیا میکلاگلن نے بتایا کہ صدر ٹرمپ کے تحت، وہ لوگ جو دہشت گردی کی حمایت کرتے ہیں یا امریکی قومی سلامتی کیلیے خطرہ ہیں، انہیں امریکا میں کام یا دورےکی اجازت نہیں دی جائیگی۔

حمدی نے ہفتے کو کیلی فورنیا کے شہر سکرامنٹو میں کونسل آن امریکن اسلامک ریلیشنز کے گالا میں خطاب کیا تھا، اور اتوار کو فلوریڈا میں ایک پروگرام میں شرکت کرنی تھی۔ کونسل کے مطابق، انہیں سان فرانسسکو بین الاقوامی ہوائی اڈے پر حراست میں لیا گیا۔

کونسرویٹو حلقوں نے ٹرمپ انتظامیہ سے حمدی کو ملک سے نکالنے کا مطالبہ کیا تھا، جبکہ کونسل نے حمدی کی رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ انہیں اسرائیلی حکومت پر تنقید کرنے کے باعث گرفتار کیا گیا ہے۔

کونسل کے ڈپٹی ڈائریکٹر ایڈورڈ احمد مچل نے کہا کہ حمدی نے پہلے بھی اسلامی جنگجوؤں کی حمایت سے انکار کیا ہے، اور تنظیم کے وکلاء ان سے رابطہ کرنے میں ناکام رہے۔

تنظیم نے بیان میں کہا کہ ایک برطانوی مسلم صحافی کو اسرائیلی حکومت کی نسل کشی پر تنقید کرنے پر امریکا میں گرفتار کرنا آزادی اظہار رائے کی کھلی خلاف ورزی ہے۔

کونسرویٹو سرگرم کارکن لورا لومر نے حمدی کی گرفتاری میں اپنا کردار تسلیم کیا۔

ٹرمپ انتظامیہ نے جنوری سے امیگریشن پر سخت اقدامات کیے ہیں، جن میں سوشل میڈیا کی جانچ، ویزا منسوخی، اور فلسطینیوں کی حمایت کرنے والے طلباء اور گرین کارڈ ہولڈرز کی ملک بدری شامل ہے۔

Leave a reply