روس کا چین کو جوہری توانائی میں ترقی کے لیے تعاون جاری رکھنے کا اعلان

روس نے چین کو نیوکلیئر توانائی کے شعبے میں ترقی دینے کے لیے ہر ممکن تعاون جاری رکھنے کا عندیہ دیا ہے۔ روس کی سرکاری جوہری ایجنسی “روستم” کے سربراہ الیکسی لخاشیو کے مطابق، چین نے جوہری ری ایکٹرز کی تعداد بڑھانے کا جامع منصوبہ ترتیب دیا ہے، جس کا مقصد امریکا کو اس میدان میں پیچھے چھوڑنا ہے۔
عالمی سطح پر اس وقت امریکا نیوکلیئر ری ایکٹرز کے لحاظ سے سب سے آگے ہے، جس کی مجموعی پیداواری صلاحیت تقریباً 97 گیگاواٹ ہے۔ چین اس دوڑ میں دوسرے نمبر پر ہے اور اپریل 2024 کے اعداد و شمار کے مطابق اس کی پیداواری صلاحیت 53.2 گیگاواٹ تک پہنچ چکی ہے۔
روسی حکام کے مطابق، چین کی جوہری توانائی کی پیداوار آئندہ چند برسوں میں 100 گیگاواٹ تک پہنچ سکتی ہے۔ الیکسی لخاشیو نے بتایا کہ روس، چین کی موجودہ نیوکلیئر تنصیبات کی تعمیر میں عملی طور پر مدد فراہم کر رہا ہے اور مستقبل میں بھی یہ تعاون جاری رکھا جائے گا۔
روس نے اب تک چین کے چار نیوکلیئر ری ایکٹرز کی تعمیر میں معاونت کی ہے، جب کہ مزید چار ری ایکٹرز پر کام جاری ہے۔ ان منصوبوں کی تکمیل کے لیے چین کو بڑی مقدار میں یورینیم اور نیوکلیئر فیول کی ضرورت ہے، جو روس کی ٹیکنالوجی کی مدد سے فراہم کیا جا رہا ہے۔ اس اشتراک سے چین نیوکلیئر فیول سائیکل کی ایک نئی شکل کو فروغ دے رہا ہے۔
یہ پیش رفت عالمی توانائی کے منظرنامے میں بڑی تبدیلی کا پیش خیمہ بن سکتی ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب نیوکلیئر توانائی کو ماحول دوست اور پائیدار ذریعہ سمجھا جا رہا ہے۔









