ڈیپ سیک کا نیا اے آئی چیٹ بوٹ متعارف، عالمی ٹیکنالوجی مقابلے میں نئی پیش رفت

0
4
ڈیپ سیک کا نیا اے آئی چیٹ بوٹ متعارف، عالمی ٹیکنالوجی مقابلے میں نئی پیش رفت

چین کی مصنوعی ذہانت کی کمپنی ڈیپ سیک نے اپنے جدید اے آئی چیٹ بوٹ ماڈلز پیش کر دیے ہیں، جس کے بعد عالمی ٹیکنالوجی مارکیٹ میں مقابلہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے۔
کمپنی نے 24 اپریل کو اپنے دو نئے ماڈلز V4 پرو اور V4 فلیش کا ابتدائی ورژن جاری کیا ہے۔ ڈیپ سیک کے مطابق یہ دونوں ماڈلز کارکردگی کے لحاظ سے دنیا کی بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے جدید چیٹ بوٹس کے قریب پہنچ چکے ہیں اور بعض تکنیکی شعبوں میں ان کے برابر کارکردگی دکھاتے ہیں۔
اس سے قبل 2025 کے آغاز میں کمپنی نے اپنا R1 چیٹ بوٹ متعارف کرایا تھا، جس نے کم لاگت میں ترقی یافتہ اے آئی سسٹم تیار کرنے کی وجہ سے عالمی توجہ حاصل کی۔
نئے ماڈلز میں V4 پرو کو زیادہ پیچیدہ کاموں کے لیے تیار کیا گیا ہے، خاص طور پر ریاضی اور کوڈنگ جیسے شعبوں میں اس کی کارکردگی بہتر بتائی جا رہی ہے۔ جبکہ V4 فلیش کو تیز رفتار جواب دینے اور کم وسائل میں مؤثر نتائج فراہم کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔
کمپنی کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ ماڈلز کچھ جدید امریکی اے آئی سسٹمز سے معمولی فرق کے ساتھ پیچھے ہیں، تاہم مجموعی طور پر ان کی کارکردگی عالمی معیار کے قریب ہے۔
ڈیپ سیک کی بنیاد 2023 میں چین کے صوبے گوانگ ڈونگ میں رکھی گئی تھی۔ کمپنی کو ایک ایسے ادارے کے طور پر تشکیل دیا گیا جس کا مقصد فوری منافع کی بجائے تحقیق اور ٹیکنالوجی کی ترقی کو فروغ دینا ہے۔
کمپنی کے بانی لیانگ وین فینگ ہیں، جو اس سے قبل سرمایہ کاری کے شعبے سے وابستہ تھے اور بعد میں انہوں نے مصنوعی ذہانت کی تحقیق پر توجہ مرکوز کی۔ ان کے مطابق ڈیپ سیک کا بنیادی مقصد جدید ٹیکنالوجی کی ترقی اور جدت کو آگے بڑھانا ہے۔
رپورٹس کے مطابق کمپنی کو ابتدائی سرمایہ کاری بھی اسی نیٹ ورک سے حاصل ہوئی جس سے بانی وابستہ رہے، جبکہ اے آئی سسٹمز کی تیاری کے لیے جدید گرافکس پروسیسنگ یونٹس میں بھی ابتدائی سطح پر سرمایہ کاری کی گئی۔
تاہم کمپنی کو سب سے بڑا چیلنج جدید چپ ٹیکنالوجی تک محدود رسائی کا سامنا رہا، خاص طور پر ان امریکی پابندیوں کے بعد جنہوں نے چین کو جدید سیمی کنڈکٹرز کی فراہمی متاثر کی۔
اس کے باوجود ڈیپ سیک نے محدود وسائل میں تیزی سے ترقی کی ہے اور اب اسے ان چینی کمپنیوں میں شمار کیا جا رہا ہے جو عالمی اے آئی مقابلے میں بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے قریب پہنچ رہی ہیں۔

Leave a reply