مہنگی بیوٹی کریمیں بھی بے اثر؟ اسموگ چہرے کی رونق چھیننے لگی

0
9
مہنگی بیوٹی کریمیں بھی بے اثر؟ اسموگ چہرے کی رونق چھیننے لگی

فضائی آلودگی اور اسموگ کو عموماً سانس کی بیماریوں اور پھیپھڑوں کے مسائل کی بڑی وجہ سمجھا جاتا ہے، تاہم ماہرین کے مطابق آلودہ فضا انسانی جلد کی صحت اور خوبصورتی کو بھی بری طرح متاثر کر سکتی ہے۔ مسلسل اسموگ کے ماحول میں رہنے سے چہرے پر جھریاں، سیاہ دھبے، خشکی اور قبل از وقت بڑھاپے کی علامات نمایاں ہونے کا خدشہ بڑھ جاتا ہے۔

ماہرینِ جلد کے مطابق فضائی آلودگی میں موجود انتہائی باریک ذرات، خصوصاً پی ایم 2.5، جلد کی سطح پر جمع ہو کر اس کے قدرتی حفاظتی حصار کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ یہ ذرات جلد میں آکسیڈیٹو اسٹریس بڑھانے کا سبب بنتے ہیں، جس کے نتیجے میں فری ریڈیکلز کی سرگرمی میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

فری ریڈیکلز جلد میں موجود کولیجن اور ایلاسٹن جیسے اہم پروٹینز کو متاثر کرتے ہیں۔ یہ پروٹین جلد کو مضبوط، نرم اور لچکدار رکھنے میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔ ان کی مقدار یا کارکردگی متاثر ہونے سے جلد کی لچک کم اور جھریاں زیادہ نمایاں ہو سکتی ہیں۔

ماہرین کے مطابق آلودہ ماحول میں سورج کی الٹرا وائلٹ شعاعوں کا سامنا جلد کے مسائل میں مزید اضافہ کر سکتا ہے۔ اس کے نتیجے میں چہرے کی قدرتی چمک ختم ہونے، رنگت غیر ہموار ہونے، سیاہ دھبے پڑنے، سرخی، جلن اور خشکی جیسی شکایات سامنے آ سکتی ہیں۔ حساس جلد والے افراد میں دانوں اور ایکزیما کی علامات بھی بڑھ سکتی ہیں۔

جلد کو اسموگ سےمحفوظ رکھنےکیلیے احتیاطی تدابیر

ماہرین جلد کی حفاظت کے لیے روزانہ نرم فیس واش سے چہرہ صاف کرنے، سخت صابن اور بار بار منہ دھونے سے گریز کرنے کا مشورہ دیتے ہیں۔

اس کے علاوہ روزانہ کم از کم ایس پی ایف 30 والا براڈ اسپیکٹرم سن اسکرین استعمال کرنا، جلد کی مناسبت سے موئسچرائزر لگانا اور پھلوں و سبزیوں سے بھرپور متوازن غذا کھانا بھی مفید ہے۔

فضائی آلودگی بڑھنے کے دوران غیر ضروری طور پر باہر نکلنے سے گریز کرنا چاہیے، خصوصاً مصروف شاہراہوں اور دھوئیں والے مقامات پر زیادہ دیر قیام نہیں کرنا چاہیے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ جلد کی بروقت دیکھ بھال اور احتیاطی اقدامات سے آلودگی کے ممکنہ نقصانات کو کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔

Leave a reply