گھر بیٹھے نبض چیک کرنے کا آسان طریقہ اور اس کی طبی اہمیت

0
8
گھر بیٹھے نبض چیک کرنے کا آسان طریقہ اور اس کی طبی اہمیت

سوشل میڈیا پر حالیہ دنوں میں دو انگلیوں کی مدد سے نبض چیک کرنے کا ایک سادہ طریقہ کافی مقبول ہو رہا ہے، جسے دل کی صحت جانچنے کا ابتدائی ذریعہ بتایا جا رہا ہے۔

اس طریقے میں شہادت اور درمیان والی انگلی کو کلائی کے اس حصے پر رکھا جاتا ہے جو انگوٹھے کے نیچے ہوتا ہے، یا پھر گردن کی سائیڈ پر موجود نبض کو محسوس کیا جاتا ہے۔ اس کے بعد دل کی دھڑکنوں کو گنا جاتا ہے اور ان کی رفتار اور ترتیب کا جائزہ لیا جاتا ہے۔

ماہرین کے مطابق یہ عمل مکمل طبی تشخیص نہیں دے سکتا، تاہم یہ دل کی دھڑکن میں ابتدائی بے قاعدگیوں کی طرف اشارہ ضرور کر سکتا ہے، جنہیں اکثر لوگ نظر انداز کر دیتے ہیں۔

طریقہ کار کے مطابق بہتر نتائج کے لیے نبض صبح سویرے آرام کی حالت میں چیک کرنا زیادہ درست سمجھا جاتا ہے۔ ورزش، کافی یا سگریٹ کے استعمال کے فوراً بعد نبض تیز ہو سکتی ہے، اس لیے کم از کم ایک گھنٹے کا وقفہ ضروری قرار دیا جاتا ہے۔

نبض گننے کا آسان طریقہ یہ ہے کہ 30 سیکنڈ تک دھڑکنیں گن کر اسے دو سے ضرب دیا جائے۔ ایک صحت مند بالغ فرد میں آرام کی حالت میں دل کی رفتار عموماً 60 سے 100 دھڑکن فی منٹ کے درمیان ہوتی ہے۔

طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر نبض مسلسل 100 سے زیادہ یا 60 سے کم رہے تو یہ دل کے برقی نظام یا جسمانی صحت کے کسی مسئلے کی علامت ہو سکتی ہے۔ اسی طرح غیر معمولی یا بے ترتیب دھڑکنیں ذہنی دباؤ، پانی کی کمی یا ہارمونز کے مسائل کی نشاندہی بھی کر سکتی ہیں۔

ماہرین یہ بھی خبردار کرتے ہیں کہ اگر دھڑکن میں وقفے محسوس ہوں یا دل کی دھڑکن بے ترتیب لگے تو اسے معمولی نہ سمجھا جائے، کیونکہ بعض صورتوں میں یہ فالج کے خطرے سے بھی جڑا ہو سکتا ہے۔

اگر نبض کی خرابی کے ساتھ سینے میں درد، سانس لینے میں دشواری، چکر یا بے ہوشی جیسی علامات ہوں تو فوری طبی معائنہ ضروری ہے۔

ماہرین کے مطابق صرف نبض چیک کرنا دل کی مکمل صحت کا اندازہ نہیں دیتا، اس کے لیے ای سی جی اور ایکو جیسے باقاعدہ ٹیسٹ ضروری ہوتے ہیں۔

اسمارٹ واچز اور دیگر ڈیجیٹل آلات بھی نبض کی نگرانی میں مدد دیتے ہیں، تاہم ان کے نتائج کو حتمی نہیں سمجھنا چاہیے اور ضرورت پڑنے پر ڈاکٹر سے تصدیق لازمی ہے۔

صحت مند دل کے لیے متوازن غذا، کم نمک کا استعمال اور روزانہ باقاعدہ چہل قدمی کو معمول بنانے کی سفارش کی جاتی ہے تاکہ دل کی دھڑکن اور مجموعی صحت بہتر رہ سکے۔

Leave a reply