ہائی بلڈ پریشر سے پریشان ہیں؟ یہ راز جان لیں

0
29
ہائی بلڈ پریشر سے پریشان ہیں؟ یہ راز جان لیں

باقاعدگی سے چہل قدمی کرنا نہ صرف جسمانی صحت بہتر بناتا ہے بلکہ ہائی بلڈ پریشر کو کنٹرول کرنے میں بھی اہم کردار ادا کرتا ہے۔ طبی ماہرین کے مطابق روزانہ واک کو معمول کا حصہ بنا کر دل کی صحت بہتر اور شریانوں پر دباؤ کم کرنے میں مدد حاصل کی جا سکتی ہے۔

امریکا کے کلیولینڈ کلینک کے ماہرین کے مطابق چہل قدمی سے دل کی کارکردگی اور جسمانی فٹنس میں بہتری آتی ہے۔ اس کے نتیجے میں دل زیادہ مؤثر انداز میں خون پمپ کرتا ہے اور شریانوں پر دباؤ کم ہونے لگتا ہے، جس سے بلڈ پریشر کی سطح میں کمی آسکتی ہے۔

روزانہ کتنی دیر واک کرنی چاہیے؟

2024 میں برٹش جرنل آف کارڈیک نرسنگ میں شائع ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق ہائی بلڈ پریشر کے مریض اگر 15 ہفتوں تک ہفتے میں 3 سے 5 مرتبہ، روزانہ 20 سے 40 منٹ تک معتدل رفتار سے چہل قدمی کریں تو ان کے بلڈ پریشر میں نمایاں بہتری آسکتی ہے۔

امریکا کے سیڈرز سائی نائی میڈیکل سینٹر سے وابستہ ماہر امراض قلب کرسٹوفر لی کے مطابق جسمانی سرگرمی کو مستقل جاری رکھنا میٹابولک صحت بہتر رکھنے کے لیے ضروری ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ چہل قدمی کو روزمرہ زندگی کا حصہ بنانا آسان ہے اور اس سے دل کی صحت کو بھی فائدہ پہنچتا ہے۔

دوستوں کے ساتھ واک کے اضافی فوائد

ماہرین کے مطابق دوستوں یا اہل خانہ کے ساتھ چہل قدمی کرنے سے جسمانی سرگرمی کے ساتھ سماجی میل جول کے مواقع بھی بڑھتے ہیں۔

تحقیقی رپورٹس میں سماجی تنہائی اور الگ تھلگ رہنے کو دل کی صحت کے لیے نقصان دہ قرار دیا گیا ہے۔ ان رپورٹس کے مطابق سماجی تنہائی سے ہارٹ اٹیک یا امراض قلب کے باعث موت کا خطرہ 29 فیصد جبکہ فالج کا خطرہ 32 فیصد تک بڑھ سکتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ صحت مند طرز زندگی اپنانے، باقاعدگی سے چہل قدمی کرنے اور سماجی روابط برقرار رکھنے سے مجموعی صحت بہتر بنانے میں مدد مل سکتی ہے۔

اہم بات: ہائی بلڈ پریشر کے مریض چہل قدمی کو اپنی جسمانی استعداد کے مطابق شروع کریں اور بلڈ پریشر کی ادویات ڈاکٹر کے مشورے کے بغیر بند نہ کریں۔

Leave a reply