امریکا ایران مذاکرات میں تیزی، قطر کا وفد ایک بار پھر تہران پہنچ گیا

امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی ختم کرنے اور ممکنہ معاہدے کی راہ ہموار کرنے کے لیے سفارتی سرگرمیاں تیز ہوگئی ہیں۔ اسی سلسلے میں قطر نے اپنا وفد دوبارہ ایران بھیج دیا ہے، جہاں ایرانی حکام کے ساتھ اہم معاملات پر بات چیت جاری ہے۔
بین الاقوامی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق قطر دونوں ممالک کے درمیان اختلافات کم کرنے اور مذاکرات کی بحالی کے لیے مسلسل سفارتی رابطے کر رہا ہے۔ قطری وفد اس سے قبل بھی چند روز پہلے تہران کا دورہ کر چکا ہے۔
دوسری جانب ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے تصدیق کی ہے کہ تہران کو امریکا کی جانب سے بھیجا گیا پیغام موصول ہوا ہے، جس کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
قالیباف کے مطابق ایران نے مذاکرات میں پیش رفت کے لیے اپنی سات شرائط ثالثی کرنے والے ممالک تک پہنچا دی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ان شرائط کو تسلیم کیے بغیر امریکا کے ساتھ بات چیت آگے بڑھانا ممکن نہیں ہوگا۔
ایرانی اسپیکر نے واضح کیا کہ دباؤ اور مراعات کے ذریعے تہران کا مؤقف تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔
مذاکرات میں بنیادی اختلافات بدستور موجود ہیں۔ واشنگٹن چاہتا ہے کہ بات چیت کے آغاز سے ہی ایران کے جوہری پروگرام کو مذاکرات کا حصہ بنایا جائے، جبکہ ایران کا مطالبہ ہے کہ امریکا پہلے ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی ختم کرے اور تیل کی برآمدات پر پابندیاں اٹھائے۔
رپورٹس کے مطابق قطر اس سے قبل بھی دونوں ملکوں کے درمیان مفاہمت کے لیے ایک مجوزہ معاہدے کا مسودہ پیش کر چکا ہے، تاہم ایرانی حکام نے اس تجویز پر تحفظات کا اظہار کیا تھا۔
ادھر امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کی جانب سے ایران کے سیکیورٹی حکام کو پیغام بھیجے جانے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔ امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق اس اقدام کا مقصد تعطل کا شکار مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کی کوشش کرنا تھا۔
ایرانی ذرائع کے مطابق تہران کو امریکی پیغام موصول ہو چکا ہے، تاہم اس پر باضابطہ جواب دینے کا فیصلہ تاحال سامنے نہیں آیا۔
قطر کی تازہ سفارتی سرگرمیوں سے امریکا اور ایران کے درمیان رابطوں کی بحالی کی امید پیدا ہوئی ہے، لیکن جوہری پروگرام، پابندیوں اور بحری ناکہ بندی جیسے معاملات پر اختلافات کسی ممکنہ معاہدے کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہیں۔









