
کراچی: سرکاری اسپتالوں میں بچوں میں ایچ آئی وی کے مبینہ بڑھتے ہوئے کیسز کے معاملے پر وفاقی حکومت سے طبی ایمرجنسی نافذ کرنے اور اعلیٰ سطح کا تحقیقاتی کمیشن قائم کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
متاثرہ بچوں کے وکیل طارق منصور نے وفاقی حکومت کو خط ارسال کیا ہے، جس میں ولیکا اسپتال سمیت دیگر سرکاری طبی مراکز میں بچوں کے ایچ آئی وی سے متاثر ہونے کے واقعات کی جامع تحقیقات پر زور دیا گیا ہے۔
خط میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ معاملے کی سنگینی کو مدنظر رکھتے ہوئے اسپتالوں میں ہنگامی اقدامات کیے جائیں اور تحقیقات کے لیے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) تشکیل دی جائے۔ وکیل نے پاکستان کمیشن آف انکوائری ایکٹ 2017 کے تحت باقاعدہ تحقیقات شروع کرنے کی بھی درخواست کی ہے۔
طارق منصور کے مطابق تحقیقات میں وفاقی تحقیقاتی اداروں کے ساتھ ڈریپ اور قومی ادارہ صحت سمیت متعلقہ اداروں کو بھی شامل کیا جانا چاہیے۔ خط میں ایف آئی اے، انٹیلی جنس بیورو، نیب اور دیگر متعلقہ اداروں کی معاونت سے معاملے کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لینے کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے۔
وکیل نے متعلقہ اسپتالوں کے طبی، انتظامی اور مالی ریکارڈ کو محفوظ بنانے اور ان کا فرانزک آڈٹ کرانے پر زور دیا ہے تاکہ ممکنہ غفلت یا بے ضابطگیوں کا تعین کیا جا سکے۔
خط میں مزید کہا گیا ہے کہ تحقیقاتی کمیشن کی رپورٹ عام کی جائے اور تحقیقات میں ذمہ دار ثابت ہونے والے افراد کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے۔ تاہم، الزامات کی تصدیق اور ذمہ داری کے تعین کے لیے آزادانہ تحقیقات ضروری ہیں۔









