نہ پھول، نہ عطر، پھر خوشبو کہاں سے آئے گی؟ سائنس دانوں کی حیران کن ایجاد“

0
26
نہ پھول، نہ عطر، پھر خوشبو کہاں سے آئے گی؟ سائنس دانوں کی حیران کن ایجاد“

سائنس دانوں نے ایک جدید ٹیکنالوجی تیار کی ہے جو الیکٹرانک ناک کے ذریعے مختلف خوشبوؤں کی شناخت کرنے اور انہیں دوسری جگہ دوبارہ پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ اس پیش رفت سے مستقبل میں ڈیجیٹل دنیا میں خوشبوؤں کو بھی تصاویر اور آوازوں کی طرح شیئر کرنا ممکن ہو سکتا ہے۔
سینٹرونک نامی اس ٹیکنالوجی میں ایک الیکٹرانک نظام پہلے کسی مخصوص خوشبو کو شناخت کرتا ہے۔ اس کے بعد یہ معلومات جسم پر پہنی جانے والی ایک ریموٹ ڈیوائس کو بھیجی جاتی ہیں، جو مخصوص خوشبودار سالمات خارج کرکے اصل مہک سے ملتی جلتی خوشبو پیدا کرتی ہے۔
اوہائیو اسٹیٹ یونیورسٹی میں میٹریلز سائنس اینڈ انجینئرنگ کے ڈاکٹریٹ کے طالب علم چُن یو یانگ، جو اس تحقیق کے مرکزی مصنف بھی ہیں، کے مطابق اس نظام کا بنیادی مقصد ایک مقام پر محسوس کی جانے والی خوشبو کو دوسرے مقام پر دوبارہ تخلیق کرنا ہے۔
محققین کا خیال ہے کہ یہ ٹیکنالوجی انٹرنیٹ کے ذریعے رابطے اور ڈیجیٹل تفریح کے تجربات کو مزید حقیقت سے قریب کر سکتی ہے۔ مستقبل میں اس کے ذریعے ورچوئل ریئلٹی، آن لائن گیمنگ اور دور بیٹھے افراد کے درمیان ڈیجیٹل رابطے میں خوشبو کا عنصر شامل کیا جا سکے گا، جس سے صارفین کو زیادہ جاندار اور منفرد تجربہ ملنے کی توقع ہے۔

Leave a reply