
دانتوں کی صفائی کے لیے جدید آلات کا استعمال بڑھ رہا ہے، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ الیکٹرک ٹوتھ برش اور واٹر فلوسر ہر شخص کے لیے ضروری نہیں۔ ان کا انتخاب دانتوں کی حالت، مسوڑھوں کی صحت اور روزمرہ صفائی کے طریقے کو مدنظر رکھتے ہوئے کرنا چاہیے۔
دانتوں پر جمع ہونے والی چپچپی تہہ، جسے پلاک کہا جاتا ہے، اگر باقاعدگی سے صاف نہ کی جائے تو دانتوں اور مسوڑھوں کے مختلف مسائل پیدا ہوسکتے ہیں۔ اس لیے دانتوں کی مؤثر صفائی اور منہ کی صحت برقرار رکھنے کے لیے درست طریقہ اختیار کرنا بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔
الیکٹرک ٹوتھ برش کے فوائد
الیکٹرک ٹوتھ برش خودکار حرکت کے ذریعے دانتوں کی صفائی کرتا ہے۔ اس کے بعض ماڈلز میں ٹائمر اور زیادہ دباؤ سے خبردار کرنے کی سہولت بھی موجود ہوتی ہے۔ تحقیق کے مطابق اس کا درست اور مسلسل استعمال پلاک کم کرنے اور مسوڑھوں کی سوزش میں کمی لانے میں مدد دے سکتا ہے۔
یہ برش بالخصوص ان افراد کے لیے مفید ہوسکتا ہے جنہیں ہاتھوں کی حرکت میں دشواری ہو یا عام برش سے دانت صاف کرنے میں مشکلات پیش آتی ہوں۔ تاہم، روایتی برش بھی مؤثر ہے، بشرطیکہ اسے درست طریقے سے استعمال کیا جائے۔
واٹر فلوسر کس کے لیے بہتر ہے؟
واٹر فلوسر پانی کی دھار کے ذریعے دانتوں کے درمیان اور مسوڑھوں کے کناروں کی صفائی میں مدد دیتا ہے۔ بریسز استعمال کرنے والے افراد اور وہ لوگ جنہیں روایتی ڈینٹل فلاس استعمال کرنے میں مشکل ہوتی ہے، اس سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔
تاہم، ہر شخص کے لیے واٹر فلوسر، ڈینٹل فلاس یا انٹرڈینٹل برش کا انتخاب یکساں نہیں ہوتا۔ مناسب طریقہ دانتوں کے درمیان جگہ اور مسوڑھوں کی کیفیت کے مطابق مختلف ہوسکتا ہے۔
خریداری سے پہلے اہم باتیں
ماہرین کے مطابق دن میں دو مرتبہ دو منٹ تک فلورائیڈ ٹوتھ پیسٹ سے دانت صاف کرنا، دانتوں کے درمیان صفائی کرنا اور باقاعدگی سے ڈینٹسٹ سے معائنہ کروانا ضروری ہے۔ مسوڑھوں سے خون آنے، مسلسل بدبو یا دانتوں میں حساسیت کی صورت میں ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے۔
جدید آلات صفائی کو آسان بنا سکتے ہیں، لیکن ان کا فائدہ اسی وقت ہے جب انہیں باقاعدگی اور درست طریقے سے استعمال کیا جائے۔








