امریکی میکسیکو سرحد پر پراسرار مخلوق کی موجودگی کا دعویٰ

0
34
امریکی میکسیکو سرحد پر پراسرار مخلوق کی موجودگی کا دعویٰ

امریکا اور میکسیکو کی سرحد کے قریب ایک پراسرار مخلوق دیکھے جانے کی اطلاعات نے سوشل میڈیا اور ذرائع ابلاغ میں توجہ حاصل کرلی ہے۔ مبینہ سیکیورٹی فوٹیج میں سفید رنگ کی ایک غیر معمولی جسامت والی مخلوق دکھائی دینے کا دعویٰ کیا گیا ہے، جس کا موازنہ مشہور نیٹ فلکس سیریز ’اسٹرینجر تھنگز‘ کے فرضی عفریت سے کیا جا رہا ہے۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق، میکسیکو کے معروف یو ایف او محقق جائمے موسان اور ان کی ٹیم نے دعویٰ کیا ہے کہ یہ مخلوق ریاست چیہواوا کے علاقے وادیِ خواریز میں مرغیوں، مرغوں اور خرگوشوں کا شکار کر رہی ہے۔ مبینہ تصاویر میں اس کے لمبے اعضا اور غیر معمولی دم دکھائی دیتی ہے۔

موسان کے مطابق، اس مخلوق کی مجموعی لمبائی تقریباً چھ فٹ ہوسکتی ہے، جبکہ اس کی دم لگ بھگ تین فٹ طویل بتائی گئی ہے۔ انہوں نے یہ امکان بھی ظاہر کیا کہ یہ کسی دوسرے سیارے کی مخلوق ہونے کے بجائے کسی متبادل ڈائیمینشن سے تعلق رکھتی ہو۔ تاہم، ان دعووں کی تصدیق کے لیے کوئی مستند سائنسی ثبوت سامنے نہیں آیا۔

رپورٹس میں مقامی افراد سے منسوب بیانات کے مطابق، بعض لوگوں نے جانوروں پر حملوں اور ایک لڑکے کی جانب سے عجیب مخلوق دیکھنے کا ذکر کیا ہے۔ دوسری جانب، خواریز کے شہری تحفظ کے حکام اور امریکی سرحدی علاقے ٹیکساس کی پولیس نے ایسے غیر معمولی واقعات یا مویشیوں پر حملوں کی باضابطہ شکایات موصول ہونے کی تصدیق نہیں کی۔

جائمے موسان ماضی میں بھی خلائی حیات سے متعلق متنازع دعوے کرچکے ہیں۔ 2023 میں پیش کیے گئے مبینہ غیر انسانی باقیات کے نمونوں پر ماہرین نے سوالات اٹھائے تھے، جبکہ بعض نمونوں کو مصنوعی طور پر تیار کردہ قرار دیا گیا۔

فی الحال، نئی مبینہ مخلوق کی شناخت، موجودگی اور جانوروں پر حملوں سے اس کے تعلق کے بارے میں کوئی حتمی نتیجہ سامنے نہیں آیا۔ ماہرین کی آزادانہ جانچ اور مستند شواہد کے بغیر اسے خلائی یا نامعلوم مخلوق قرار دینا قبل از وقت ہوگا۔

Leave a reply