فرانس کے مختلف شہروں میں بدامنی، کئی علاقوں میں رات کے کرفیو کا نفاذ

پیرس: فرانس میں حکومت مخالف مظاہروں کے دوران تشدد، توڑ پھوڑ اور دکانوں میں لوٹ مار کے واقعات کے بعد حکام نے پیرس سمیت متعدد شہروں کے مختلف علاقوں میں پابندیاں عائد کر دی ہیں۔ ان اقدامات میں رات کے اوقات میں کرفیو، احتجاجی اجتماعات پر پابندی اور کم عمر افراد کی نقل و حرکت محدود کرنا شامل ہے۔
فرانسیسی حکومت کو امن و امان کی صورتحال کے ساتھ معاشی مشکلات، بڑھتے ہوئے سرکاری قرضوں اور سیاسی دباؤ کا بھی سامنا ہے۔ صدر ایمانوئل میکرون کی حکومت بدامنی پر قابو پانے اور معمولاتِ زندگی بحال کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
پیرس پولیس کے مطابق شہر کے بعض علاقوں میں شام آٹھ بجے کے بعد مظاہروں کی اجازت نہیں ہوگی، جبکہ پلیس ڈی لا ریپبلک اور لیس ہالس کے اطراف رات 11 بجے سے صبح چھ بجے تک کرفیو نافذ کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔
شمالی فرانس کے بعض علاقوں، جن میں لِل اور اس کے گرد و نواح کے قصبے شامل ہیں، وہاں بھی مقامی انتظامیہ نے کم عمر افراد کے رات کے وقت باہر نکلنے پر پابندیاں عائد کی ہیں۔ نائس میں بھی شہر کے مرکزی حصے میں بچوں کی نقل و حرکت محدود کرنے کے اقدامات کیے گئے ہیں، جبکہ مارسیل میں اجتماعات اور مظاہروں پر پابندی لگائی گئی ہے۔
حکومت اور اپوزیشن میں الزامات کا تبادلہ
فرانسیسی وزیراعظم سیباسٹین لیکورنو نے کہا ہے کہ حکومت ملک میں امن و امان کی بحالی کے لیے پرعزم ہے۔ ان کے مطابق موجودہ حالات میں پورے پیرس میں کرفیو لگانے کے بجائے متاثرہ علاقوں میں محدود پابندیاں زیادہ مناسب ہیں۔
وزیراعظم نے بدامنی کے پیچھے انتہائی بائیں بازو کے گروہوں کے ملوث ہونے کا الزام بھی عائد کیا۔ اس بیان پر بائیں بازو کے رہنما ژاں لوک میلانشون نے ان سے شواہد پیش کرنے یا اپنا مؤقف واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔
گرفتاریاں، پولیس اہلکار زخمی، کاروبار متاثر
حکام کے فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق بدامنی کے دوران ہزاروں افراد کو گرفتار کیا گیا، جبکہ احتجاجی واقعات میں ایک شخص کی ہلاکت اور سیکیورٹی اہلکاروں کے زخمی ہونے کی اطلاعات سامنے آئیں۔
تجارتی شعبے کے نمائندوں کے مطابق ملک بھر میں بڑی تعداد میں دکانوں کو لوٹ مار یا توڑ پھوڑ کا نشانہ بنایا گیا، جس سے کاروباری سرگرمیاں متاثر ہوئی ہیں۔ حکومت نے آن لائن پلیٹ فارمز کو لوٹے گئے سامان کی فروخت سے متعلق اشتہارات ہٹانے کی ہدایات بھی دی ہیں اور متاثرہ تاجروں کی مالی معاونت کے امکانات پر غور کیا جا رہا ہے۔









