دنیا بھر میں شرح پیدائش میں نمایاں کمی، نوجوانوں کی ترجیحات تبدیل ہونے لگیں

عالمی سطح پر بدلتے ہوئے معاشی اور سماجی حالات نے لوگوں کے خاندانی منصوبوں کو متاثر کیا ہے۔ مختلف ممالک میں بچوں کی پرورش کے بڑھتے اخراجات، رہائش کی مہنگی سہولیات اور معاشی غیر یقینی صورتحال کے باعث نوجوان والدین بننے کے فیصلے میں تاخیر کر رہے ہیں۔
بہت سے نوجوانوں کا خیال ہے کہ بچوں کی ذمہ داری قبول کرنے سے مالی دباؤ میں اضافہ ہوتا ہے، جبکہ بچوں کے بغیر زندگی گزارنے سے ذاتی آزادی، پیشہ ورانہ ترقی اور دیگر ضروریات پر زیادہ توجہ دی جا سکتی ہے۔
ماہرین کے مطابق شادی کی عمر میں اضافہ اور طرزِ زندگی میں تبدیلی بھی شرح پیدائش میں کمی کی اہم وجوہات میں شامل ہیں۔ ان عوامل کے باعث متعدد ممالک میں خاندانوں کا حجم محدود ہوتا جا رہا ہے۔
یورپ میں بھی ایک بچے والے خاندانوں کا رجحان بڑھ رہا ہے، جبکہ کئی جوڑے دو یا اس سے زیادہ بچوں کے بجائے ایک بچے تک خاندان محدود رکھنے کو ترجیح دے رہے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ رجحان برقرار رہا تو مستقبل میں کئی ممالک کو عمر رسیدہ آبادی میں اضافے، افرادی قوت کی کمی اور سماجی و معاشی نظام پر بڑھتے دباؤ جیسے چیلنجز کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔








