
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کے سابقہ حکومت میں مارچ کو’فکسڈ‘ قرار دینے سے متعلق بیان پر سابق وزیراعلیٰ کےپی کے علی امین گنڈاپور برہم ہوگئے۔ پارٹی کے پارلیمانی گروپ کے واٹس ایپ پیغام کی مبینہ آڈیو لیک ہونیکے بعد سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھڑ گئی۔
لیک ہونے سے منسوب آڈیو پیغام میں علی امین گنڈاپور نے سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ابتدا میں ایک پیغام مزاحاً بھیجا تھا، لیکن بعد میں انہیں خیال آیا کہ یہ پیغام لیک ہو کر میڈیا پر چل سکتا ہے۔ ان کے مطابق اس طرح کی غیر ذمہ دارانہ حرکت اور گفتگو مناسب نہیں۔
مبینہ آڈیو پیغام میں علی امین گنڈاپور نے دوٹوک انداز اپناتے ہوئے کہا کہ ان کے پاس بھی بہت سی چیزوں کا ریکارڈ موجود ہے۔ ان کے بقول، اگر وہ ریکارڈ سامنے لے آئے تو متعلقہ افراد کے لیے وضاحت کرنا مشکل ہوجائے گا۔
آڈیو پیغام میں سابق وزیراعلیٰ نے کہا کہ وہ بانی پی ٹی آئی اور پارٹی کی خاطر خاموش ہیں، تاہم ان کے بقول حالیہ بیان میں ایسی زبان استعمال کی گئی ہے جس میں ایک بڑا الزام عائد کیا گیا ہے۔
علی امین گنڈاپور نے مزید کہا کہ انہیں معلوم ہے کہ کون کیا ہے اور کس نے کس کا ساتھ دیا۔ انہوں نے احسان فراموشی اور بغض کا ذکر کرتے ہوئے خبردار کیا کہ ہر بات کی ایک حد ہوتی ہے اور انسان کو اتنا ہی کہنا چاہیے جتنا وہ برداشت کرسکے۔
مبینہ آڈیو پیغام میں علی امین گنڈاپور نے سخت الفاظ استعمال کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس طرح کی گفتگو برداشت نہیں کریں گے۔ انہوں نے متعلقہ افراد کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ دوسروں پر بات کرنے کے بجائے اپنی کارکردگی پر توجہ دیں اور خود کچھ کرکے دکھائیں۔









