
کوہاٹ: پاکستان تحریک انصاف کے جاری لانگ مارچ کے حوالے سے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے قافلے کے آئندہ روٹ میں تبدیلی کا اعلان کردیا۔
کوہاٹ میں یونیورسٹی چوک پر کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ پہلے لانگ مارچ کو پشاور لے جانے کا منصوبہ تھا، تاہم ضلع خیبر کے عوام کی خواہش اور میزبانی کے پیش نظر اب قافلہ پہلے خیبر جائے گا، جس کے بعد پشاور کا رخ کیا جائے گا۔
سہیل آفریدی کے مطابق مارچ کے شیڈول میں یہ تبدیلی مقامی لوگوں کے مطالبے کو دیکھتے ہوئے کی گئی ہے۔ انہوں نے شرکا کو پرامن رہنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ احتجاجی سرگرمی ایک طویل عمل ہے، اس لیے کارکن صبر و تحمل کا مظاہرہ کریں۔
لانگ مارچ کا آغاز تین روز قبل لکی مروت سے ہوا تھا، جبکہ قافلہ کرک اور کوہاٹ سے ہوتا ہوا آگے بڑھ رہا ہے۔
دوسری جانب وزیراعظم شہباز شریف نے پی ٹی آئی کو مذاکرات کی مشروط پیشکش کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر لانگ مارچ اور دھرنے ختم کیے جائیں تو حکومت بات چیت کے لیے تیار ہے۔
وزیراعظم کے مطابق حکومت نے مذاکرات کا راستہ اسی مقصد کے لیے اختیار کیا تھا کہ سیاسی کشیدگی کم کی جائے، تاہم مذاکرات کے آخری مرحلے میں بعض معاملات پر دوبارہ مطالبات سامنے آنے سے پیش رفت نہ ہوسکی۔
شہباز شریف نے کہا کہ احتجاج اور دھرنوں کی سیاست سے ملکی معیشت اور ترقی متاثر ہوتی ہے، جبکہ حکومت عوام کے جان و مال کے تحفظ کے لیے قانون کے مطابق اقدامات کرے گی۔
وزیراعظم کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے پی ٹی آئی چیئرمین بیرسٹر گوہر نے کہا کہ مذاکرات کا سلسلہ ختم نہیں ہونا چاہیے تھا۔ ان کے مطابق حکومت اور اپوزیشن کے درمیان بات چیت کو لانگ مارچ ختم کرنے سے مشروط کرنے کے بجائے مذاکرات کا عمل جاری رہنا چاہیے۔
بیرسٹر گوہر نے کہا کہ پی ٹی آئی حکومت کے ساتھ بات چیت کے لیے بغیر کسی پیشگی شرط کے تیار تھی، تاہم ان کے بقول حکومتی جانب سے مطلوبہ سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کیا گیا۔
انہوں نے مذاکراتی عمل کی ناکامی کی ذمہ داری وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا پر ڈالنے کے تاثر کو بھی مسترد کرتے ہوئے کہا کہ دونوں فریقوں کو مسلسل مذاکرات کے ذریعے اپنے اختلافات اور تحفظات کا حل تلاش کرنا چاہیے۔









