حکومت سے مذاکرات اور آل پارٹیز کانفرنس پر اپوزیشن و فضل الرحمان کا اتفاق

0
27
حکومت سے مذاکرات اور آل پارٹیز کانفرنس پر اپوزیشن و فضل الرحمان کا اتفاق

اسلام آباد: ملک کی موجودہ سیاسی و معاشی صورتحال، خیبرپختونخوا میں بڑھتی کشیدگی اور دہشت گردی کے معاملے پر اپوزیشن جماعتوں اور جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کے درمیان اہم مشاورت ہوئی۔

ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ موجودہ حالات میں قومی سطح پر سیاسی مشاورت کی ضرورت ہے۔ انہوں نے آل پارٹیز کانفرنس بلانے اور حکومت کے ساتھ مذاکراتی عمل کو آگے بڑھانے پر اتفاق کا اعلان کیا۔

مولانا فضل الرحمان نے پاکستان تحریک انصاف کے لانگ مارچ کو سیاسی و جمہوری حق قرار دیتے ہوئے خیبرپختونخوا میں گورنر راج یا ایمرجنسی کے نفاذ کو مسائل کا مؤثر حل قرار دینے سے گریز کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردی سمیت ملک کو درپیش بڑے مسائل کا حل سیاسی جماعتوں کے درمیان بات چیت اور اتفاقِ رائے سے تلاش کیا جانا چاہیے۔

مجلس وحدت مسلمین کے سربراہ علامہ راجہ ناصر عباس نے ملک کی معاشی اور امن و امان کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حالات فوری توجہ اور سنجیدہ سیاسی حکمت عملی کے متقاضی ہیں۔

پی ٹی آئی کے جنرل سیکریٹری سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ ریاست اور عوام کے درمیان اعتماد کی فضا بحال کرنا ضروری ہے۔ ان کے مطابق اپوزیشن کی مذاکراتی نمائندگی کے لیے محمود خان اچکزئی اور علامہ راجہ ناصر عباس کو اختیار دیا گیا ہے اور حکومت سنجیدہ مذاکرات چاہتی ہے تو ان سے رابطہ کرے۔

سلمان اکرم راجہ نے مزید کہا کہ دہشت گردی کے خلاف قومی سطح کی حکمت عملی پر اپوزیشن کو اصولی طور پر کوئی اختلاف نہیں۔

ادھر پی ٹی آئی چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا کہ پارٹی مذاکرات کے لیے تیار ہے، تاہم حکومت کو مطالبات پر عملی پیش رفت کرنا ہوگی۔ انہوں نے خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی پر مذاکراتی عمل کی ناکامی کی ذمہ داری عائد کرنے کو بھی مسترد کیا۔

دوسری جانب صدر مملکت آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف کے درمیان ایوان صدر میں ملاقات ہوئی، جس میں ملک کی سیاسی اور سیکیورٹی صورتحال بالخصوص خیبرپختونخوا میں جاری کشیدگی پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

ملاقات میں حکومت کی مذاکراتی کمیٹی نے مذاکراتی عمل سے متعلق صدر مملکت اور وزیراعظم کو بریفنگ بھی دی۔ ذرائع کے مطابق حکومتی اور اتحادی قیادت نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ خیبرپختونخوا یا اسلام آباد کی صورتحال کے حوالے سے کسی بھی اہم آئینی یا قانونی اقدام سے قبل اتحادی جماعتوں اور متعلقہ حکام سے مشاورت جاری رکھی جائے گی۔

Leave a reply