موبائل اور سوشل میڈیا کا بڑھتا استعمال، بچوں کی صحت سے متعلق تشویشناک انکشاف

0
13
موبائل اور سوشل میڈیا کا بڑھتا استعمال، بچوں کی صحت سے متعلق تشویشناک انکشاف

بچوں اور نوجوانوں میں موبائل فون، سوشل میڈیا اور دیگر ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کا بڑھتا استعمال ماہرین کے لیے تشویش کا باعث بن رہا ہے۔ ایک نئی عالمی تحقیق میں ضرورت سے زیادہ اسکرین ٹائم کو بعض ذہنی اور جسمانی صحت کے مسائل سے جوڑا گیا ہے، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ ہر بچے پر اس کے اثرات یکساں نہیں ہوتے۔
طبی جریدے دی لانسیٹ میں شائع ہونے والی تحقیق میں بچوں اور ڈیجیٹل میڈیا سے متعلق دنیا بھر کی 121 مطالعات کا جائزہ لیا گیا۔ نتائج کے مطابق ضرورت سے زیادہ اسکرین ٹائم اور نوجوانوں میں ڈپریشن اور موٹاپے کے درمیان تعلق سامنے آیا، تاہم محققین نے واضح کیا کہ موجودہ شواہد کی بنیاد پر یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ ڈیجیٹل میڈیا ان مسائل کی براہِ راست وجہ ہے۔
تحقیق کے مطابق متعدد مطالعات میں اسکرین ٹائم کی معلومات خود بچوں یا نوجوانوں کی جانب سے فراہم کی گئی تھیں، جس کی وجہ سے نتائج کی کچھ حدود بھی موجود ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ بچوں کو مکمل طور پر ڈیجیٹل دنیا سے دور رکھنا موجودہ دور میں عملی طور پر مشکل ہے۔ اس کے بجائے والدین کو بچوں کی رہنمائی کرتے ہوئے انہیں ٹیکنالوجی کے متوازن اور صحت مند استعمال کی عادت ڈالنی چاہیے۔
صرف موبائل چھین لینا کافی نہیں
ماہرین کے مطابق والدین کا کردار صرف پابندیاں عائد کرنے تک محدود نہیں ہونا چاہیے۔ بچوں سے یہ جاننا ضروری ہے کہ وہ آن لائن کیا دیکھ رہے ہیں، کس قسم کے مواد میں دلچسپی رکھتے ہیں اور مختلف ڈیجیٹل سرگرمیوں کے بعد ان کے جذبات پر کیا اثر پڑتا ہے۔
اگر کوئی بچہ سوشل میڈیا پر دوسروں سے اپنا موازنہ کرنے لگے اور اس کے نتیجے میں خود اعتمادی کم ہونے، اداسی یا بے چینی جیسی علامات محسوس کرے تو والدین کو مسئلے پر بات کرنی چاہیے اور بچے کو منفی مواد سے دور ہونے کے طریقے سکھانے چاہییں۔
ماہرین کے مطابق نوجوانی کے دوران دماغ تیزی سے نشوونما پاتا ہے۔ بار بار دہرائی جانے والی سرگرمیاں بچوں کی عادات اور توجہ کے انداز پر اثر ڈال سکتی ہیں، اس لیے مثبت سرگرمیوں کو فروغ دینا اہم ہے۔
ڈیجیٹل میڈیا کے مثبت پہلو بھی موجود
ماہرین اس بات پر زور دیتے ہیں کہ ڈیجیٹل میڈیا کو مکمل طور پر نقصان دہ قرار دینا درست نہیں۔ مناسب استعمال کی صورت میں ٹیکنالوجی بچوں کو تعلیم، نئی مہارتیں سیکھنے، تخلیقی صلاحیتوں کے اظہار اور دوستوں و خاندان سے رابطے میں مدد فراہم کر سکتی ہے۔
آن لائن ویڈیوز کے ذریعے بچے موسیقی، رقص، سلائی، کروشیا اور دیگر ہنر سیکھ سکتے ہیں۔ اسی طرح بعض ویڈیو گیمز بچوں میں مسئلہ حل کرنے، چیلنجز کا سامنا کرنے اور کامیابی حاصل کرنے کا احساس پیدا کر سکتے ہیں، بشرطیکہ ان کا استعمال حد سے تجاوز نہ کرے۔
والدین کیا کریں؟
ماہرین کے مطابق والدین بچوں کے لیے چند بنیادی اصول طے کر سکتے ہیں:
اسکرین کے استعمال کے لیے مناسب وقت مقرر کیا جائے۔
کھانے اور سونے کے اوقات میں موبائل فون کا استعمال محدود رکھا جائے۔
بچوں سے ان کے آن لائن تجربات کے بارے میں کھل کر بات کی جائے۔
ایسے مواد کی حوصلہ افزائی کی جائے جو تعلیم، تخلیق اور مثبت سرگرمیوں سے متعلق ہو۔
بچوں کو حقیقی زندگی میں کھیل، ورزش، دوستوں اور خاندان کے ساتھ وقت گزارنے کے مواقع دیے جائیں۔
اگر کوئی آن لائن سرگرمی مسلسل بچے میں اداسی، بے چینی یا خود اعتمادی میں کمی پیدا کرے تو اس کے استعمال پر نظرثانی کی جائے۔
ماہرین کے مطابق اصل ہدف بچوں کو ٹیکنالوجی سے مکمل طور پر دور کرنا نہیں بلکہ انہیں یہ سکھانا ہے کہ ڈیجیٹل دنیا میں کون سی سرگرمیاں ان کے لیے فائدہ مند ہیں اور کون سی نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہیں۔ والدین کی نگرانی، مثبت گفتگو اور متوازن طرزِ زندگی کے ذریعے بچوں پر ڈیجیٹل میڈیا کے منفی اثرات کو کم کیا جا سکتا ہے۔

Leave a reply