
اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے ملک کی موجودہ سیاسی اور سیکیورٹی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے اعلیٰ سطح کا ایک اور اجلاس طلب کرلیا ہے، جس میں خیبرپختونخوا کی صورتحال بھی خصوصی طور پر زیرِ بحث آنے کا امکان ہے۔
ذرائع کے مطابق اجلاس میں حکومت کی مذاکراتی ٹیم بھی شریک ہوگی اور اپوزیشن کے ساتھ ہونے والی بات چیت کی اب تک کی صورتحال سے وزیراعظم کو آگاہ کیا جائے گا۔ مذاکرات میں پیش رفت نہ ہونے کی وجوہات اور آئندہ کی حکمت عملی پر بھی مشاورت متوقع ہے۔
اجلاس میں خیبرپختونخوا کے امن و امان اور انتظامی حالات کا جائزہ لیتے ہوئے مختلف آئینی راستوں پر غور کیے جانے کا امکان ہے۔ ان میں صوبے میں ایمرجنسی کے نفاذ اور گورنر راج سمیت دیگر ممکنہ اقدامات شامل ہیں۔
وفاقی حکومت نے خیبرپختونخوا کے گورنر فیصل کریم کنڈی سے بھی صوبے کی موجودہ صورتحال، امن و امان اور انتظامی معاملات سے متعلق رپورٹ طلب کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
اس سے قبل وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے پشاور کا ہنگامی دورہ کیا، جہاں گورنر ہاؤس میں گورنر فیصل کریم کنڈی کے ساتھ تفصیلی ملاقات ہوئی۔ ملاقات میں صوبے میں سیکیورٹی کی صورتحال اور بڑھتی ہوئی سیاسی کشیدگی کے تناظر میں مختلف اقدامات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
ملاقات میں خیبرپختونخوا پولیس کے آئی جی ذوالفقار حمید اور چیف سیکریٹری شہاب علی شاہ بھی موجود تھے۔ حکام نے صوبے میں امن و امان، انتظامی امور اور سیکیورٹی سے متعلق صورتحال پر بریفنگ دی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ سیاسی مذاکرات میں تعطل کے بعد وفاق اور خیبرپختونخوا کے درمیان کشیدگی کے باعث مختلف آئینی آپشنز پر بحث میں تیزی آئی ہے۔ تاہم حتمی فیصلہ وزیراعظم کی زیرِ صدارت ہونے والے اجلاس اور متعلقہ اداروں کی رپورٹس کی روشنی میں کیا جائے گا۔
گورنر فیصل کریم کنڈی کی جانب سے وفاقی حکومت کو آئینی امور میں تعاون کی یقین دہانی بھی کرائی گئی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر صدر مملکت یا وزیراعظم کی جانب سے آئینی طریقہ کار کے تحت کوئی ہدایت موصول ہوتی ہے تو گورنر ہاؤس قانون کے مطابق اپنا کردار ادا کرے گا۔
وزیراعظم کے اجلاس کے بعد خیبرپختونخوا کی سیاسی اور انتظامی صورتحال کے حوالے سے آئندہ کے لائحہ عمل پر مزید وضاحت سامنے آنے کی توقع ہے۔









