ایمرجنسی کی آہٹ، گورنر راج کا سایہ!ب

ایمرجنسی کی آہٹ، گورنر راج کا سایہ!ب

تحریر:اسامہ ذوالفقار راحت

خیبر پختونخوا ایک مرتبہ پھر پاکستان کی سیاست کے سب سے حساس موڑ پر کھڑا ہے۔ ایک طرف صوبے میں امن و امان اور دہشت گردی کی صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے، دوسری طرف مرکز اور صوبائی حکومت کے درمیان سیاسی کشیدگی مسلسل بڑھ رہی ہے۔ اب سوال صرف یہ نہیں رہا کہ خیبر پختونخوا میں حالات کتنے خراب ہیں، بلکہ اصل سوال یہ بن چکا ہے کہ اگلا قدم کیا ہوگا؟ ایمرجنسی، گورنر راج یا مذاکرات؟

تازہ صورتحال میں وفاقی حکومت کی جانب سے خیبر پختونخوا کے حوالے سے آئینی آپشنز پر مشاورت کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ وفاقی حکام کا مؤقف ہے کہ صوبے میں دہشت گردی اور امن و امان کی صورتحال انتہائی تشویشناک ہے اور آئین میں موجود راستوں کو ضرورت پڑنے پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔ دوسری جانب پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت اس مؤقف کو قبول کرنے کے بجائے سیاسی دباؤ قرار دے رہی ہے۔

یہاں سے اصل کہانی شروع ہوتی ہے۔

اگر ایمرجنسی نافذ ہوتی ہے تو سب سے پہلا سوال عوام کے ذہن میں یہی ہوگا کہ اس کا عملی اثر کیا ہوگا؟ کیا اس سے دہشت گردی کم ہوگی؟ کیا پولیس اور انتظامیہ کو زیادہ مؤثر اختیارات ملیں گے؟ کیا امن و امان بہتر ہوگا؟ یا سیاسی کشیدگی مزید بڑھے گی؟

دوسری طرف اگر گورنر راج کی طرف قدم بڑھایا جاتا ہے تو صوبائی حکومت کے اختیارات کا مستقبل سب سے بڑا سوال بن جائے گا۔ ایک منتخب صوبائی حکومت کی جگہ انتظامی اختیار گورنر کے ذریعے چلانے کا فیصلہ سیاسی اعتبار سے ایک بڑا قدم ہوگا۔ اس کے نتیجے میں مرکز اور صوبے کے درمیان پہلے سے موجود اختلاف مزید شدید ہونے کا امکان بھی زیر بحث آ رہا ہے۔

لیکن اس پوری بحث میں سب سے اہم کردار خیبر پختونخوا کے عام شہری کا ہے۔

وہ شہری جو پہلے ہی دہشت گردی، بے روزگاری، مہنگائی، کاروباری مشکلات اور بنیادی سہولیات کے مسائل سے دوچار ہے، وہ سیاسی محاذ آرائی کا مزید بوجھ کیسے برداشت کرے گا؟

اگر حکومتیں ایک دوسرے کے خلاف صف آرا رہیں، احتجاج اور جوابی اقدامات کا سلسلہ جاری رہے، راستے بند ہوں، کاروبار متاثر ہو اور انتظامیہ سیاسی کشمکش میں الجھ جائے تو اس کا نقصان کسی ایک سیاسی جماعت کو نہیں بلکہ عام آدمی کو ہوگا۔

دوسری طرف یہ بھی حقیقت ہے کہ خیبر پختونخوا میں سیکیورٹی صورتحال کو محض سیاسی اختلاف کہہ کر نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ وفاقی حکام نے دہشت گردی کو ایمرجنسی کے ممکنہ جواز کے طور پر پیش کیا ہے، جبکہ پیپلز پارٹی کے رہنما نیر بخاری نے بھی صوبے کی سیکیورٹی صورتحال کو انتہائی تشویشناک قرار دیا ہے۔

لیکن امن قائم کرنے کا راستہ صرف طاقت اور انتظامی اقدامات سے نہیں نکلتا۔ سیاسی اعتماد بھی ضروری ہوتا ہے۔

آج خیبر پختونخوا میں ایک طرف صوبائی حکومت اسلام آباد کی طرف مارچ کی بات کر رہی ہے، جبکہ دوسری طرف مرکز اس صورتحال کو روکنے کے لیے آئینی راستوں پر غور کر رہا ہے۔ پی ٹی آئی نے اپنا مارچ 27 ستمبر سے بڑھا کر 4 اکتوبر کیا تھا اور اب پارٹی قیادت نے اسے ملتوی کرنے سے انکار کیا ہے۔

یہ صورتحال ایک ایسے دائرے کو جنم دے سکتی ہے جس میں ایک سیاسی اقدام کے جواب میں دوسرا اقدام سامنے آئے اور پھر دونوں طرف سے سخت فیصلوں کا سلسلہ شروع ہوجائے۔

اور یہی وہ مقام ہے جہاں سوال پیدا ہوتا ہے:

کیا خیبر پختونخوا کو مزید سیاسی محاذ آرائی چاہیے یا سیاسی راستہ؟

اگر گورنر راج آتا ہے تو اسے صرف انتظامی فیصلہ نہیں سمجھا جائے گا بلکہ اس کے سیاسی اثرات بھی ہوں گے۔ اگر ایمرجنسی لگتی ہے تو اس کی ضرورت، دائرہ کار اور مدت پر سوالات اٹھیں گے۔ اگر مارچ ہوتا ہے تو امن و امان اور عوامی زندگی متاثر ہونے کا خدشہ رہے گا۔ اور اگر حکومتیں مذاکرات کی میز پر بیٹھتی ہیں تو شاید کشیدگی کم کرنے کا راستہ نکل سکے۔

عوام کو اس وقت کسی نئی سیاسی جنگ سے زیادہ امن چاہیے۔

انہیں اپنے بچوں کے محفوظ مستقبل کی فکر ہے۔ انہیں کاروبار چلانے کے لیے پُرامن ماحول چاہیے۔ انہیں روزگار چاہیے، اسپتال چاہیے، تعلیم چاہیے، بجلی اور پانی چاہیے۔ انہیں یہ یقین چاہیے کہ ریاستی ادارے اور سیاسی حکومتیں ان کے مسائل حل کرنے کے لیے کام کر رہی ہیں۔

خیبر پختونخوا پہلے ہی کئی دہائیوں سے بدامنی کا بوجھ اٹھاتا آیا ہے۔ ایسے میں اگر سیاسی کشمکش بھی اسی شدت کے ساتھ جاری رہتی ہے تو سب سے بڑا سوال یہی ہوگا کہ اس جنگ میں عام شہری کہاں کھڑا ہے؟

مرکز کہتا ہے کہ حالات قابو سے باہر ہونے کی صورت میں آئینی راستہ اختیار کیا جا سکتا ہے۔ صوبائی حکومت کہتی ہے کہ دباؤ کے سامنے نہیں جھکے گی۔ سیاسی جماعتیں اپنے اپنے مؤقف پر قائم ہیں۔ لیکن تاریخ کا فیصلہ ہمیشہ یہ دیکھتا ہے کہ بحران کے وقت سیاسی قیادت نے ٹکراؤ بڑھایا یا راستہ نکالا۔

آج خیبر پختونخوا کے سامنے صرف دو الفاظ نہیں کھڑے: ایمرجنسی یا گورنر راج۔

اصل امتحان اس بات کا ہے کہ ریاست اور سیاست مل کر ایسا راستہ نکالتی ہیں یا نہیں جس میں آئین بھی محفوظ رہے، عوام کے حقوق بھی محفوظ رہیں، صوبے کا انتظام بھی چلتا رہے اور دہشت گردی کے خلاف کارروائی بھی مؤثر ہو۔

کیونکہ اگر سیاسی جنگ جیتنے کی کوشش میں عوام ہار گئے تو پھر سوال صرف یہ نہیں ہوگا کہ گورنر راج آیا یا ایمرجنسی لگی؟

سوال یہ ہوگا:

“اس پورے کھیل میں خیبر پختونخوا کے عوام کو ملا کیا؟”

Leave a reply