ریبیز سے بچنا ہے تو کتے کے کاٹنے کے فوراً بعد یہ کام کریں

0
19
ریبیز سے بچنا ہے تو کتے کے کاٹنے کے فوراً بعد یہ کام کریں

کتے کا کاٹنا یا خراش بظاہر معمولی محسوس ہو سکتی ہے، تاہم اگر جانور ریبیز سے متاثر ہو تو یہ صورتحال سنگین ہو سکتی ہے۔ ماہرین کے مطابق بروقت ابتدائی طبی اقدامات اور مناسب علاج سے ریبیز سے بچاؤ ممکن ہے۔
ریبیز ایک خطرناک وائرل بیماری ہے جو اعصابی نظام کو متاثر کرتی ہے۔ علامات ظاہر ہونے کے بعد اس کا علاج انتہائی مشکل ہو جاتا ہے، اس لیے مشتبہ جانور کے کاٹنے یا خراش کو نظرانداز نہیں کرنا چاہیے۔
سب سے پہلے زخم کو اچھی طرح دھوئیں
کتے کے کاٹنے یا خراش کے فوراً بعد متاثرہ حصے کو صابن اور بہتے ہوئے پانی سے کم از کم 15 منٹ تک اچھی طرح دھونا چاہیے۔
زخم کو صرف چند سیکنڈ پانی سے دھونا کافی نہیں۔ مناسب صفائی سے جانور کے لعاب اور ممکنہ وائرس کو زخم سے دور کرنے میں مدد ملتی ہے۔ صفائی کے بعد طبی ماہر کی ہدایت کے مطابق مناسب جراثیم کش محلول استعمال کیا جا سکتا ہے۔
مرچ یا گھریلو ٹوٹکے استعمال نہ کریں
زخم پر مرچ، پودوں کا رس، تیزاب، الکلی یا کسی دوسری جلن پیدا کرنے والی چیز کا استعمال نقصان دہ ہو سکتا ہے۔ ایسے طریقے ریبیز سے تحفظ فراہم نہیں کرتے اور زخم کو مزید نقصان پہنچا سکتے ہیں۔
زخم دھونے کے بعد متاثرہ شخص کو جلد از جلد ڈاکٹر یا اینٹی ریبیز مرکز سے رجوع کرنا چاہیے۔
ہر صورت میں ایک جیسا علاج نہیں ہوتا
ریبیز سے بچاؤ کا علاج اس بات پر منحصر ہوتا ہے کہ جانور کے ساتھ کس نوعیت کا رابطہ ہوا۔
اگر کتا صرف صحیح سالم جلد کو چھوئے تو عموماً ریبیز سے بچاؤ کی ویکسین کی ضرورت نہیں ہوتی۔ تاہم اگر جانور نے جلد پر خراش ڈالی ہو یا معمولی کاٹنے سے جلد متاثر ہوئی ہو تو طبی معائنہ ضروری ہے۔
اگر کاٹنے یا خراش سے جلد پھٹ گئی ہو، خون نکلا ہو، یا جانور کا لعاب کسی کھلے زخم یا آنکھ، ناک یا منہ کی جھلیوں تک پہنچا ہو تو یہ زیادہ سنگین ایکسپوژر ہو سکتا ہے۔ ایسے معاملات میں ڈاکٹر ویکسین کے ساتھ ریبیز امیونوگلوبیولن کی ضرورت کا بھی جائزہ لے سکتا ہے۔
ریبیز امیونوگلوبیولن کیوں دیا جاتا ہے؟
ریبیز امیونوگلوبیولن فوری طور پر عارضی مدافعت فراہم کرنے والی اینٹی باڈیز مہیا کرتا ہے، جبکہ ویکسین جسم میں اپنا مدافعتی ردعمل پیدا کرتی ہے۔
اس کی ضرورت ہر مریض کو نہیں ہوتی۔ خاص طور پر پہلے سے ریبیز ویکسینیشن مکمل کرنے والے افراد کا علاج مختلف ہو سکتا ہے۔ اسی لیے ویکسین یا امیونوگلوبیولن کا شیڈول خود طے کرنے کے بجائے ڈاکٹر کی ہدایات پر عمل کرنا چاہیے۔
بچوں اور حاملہ خواتین کا بھی علاج ممکن ہے
اگر ریبیز کا خطرہ موجود ہو تو بچے، حاملہ خواتین اور دودھ پلانے والی ماؤں کو بھی ضرورت کے مطابق حفاظتی علاج دیا جا سکتا ہے۔ علاج میں تاخیر صرف حمل یا کم عمر ہونے کی وجہ سے نہیں کرنی چاہیے۔
کتے کے کاٹنے سے دیگر خطرات بھی ہو سکتے ہیں
کتے کے کاٹنے سے صرف ریبیز ہی کا خطرہ نہیں ہوتا۔ زخم میں بیکٹیریا داخل ہونے سے انفیکشن پیدا ہو سکتا ہے جبکہ گہرے زخم پٹھوں، اعصاب یا دیگر بافتوں کو بھی نقصان پہنچا سکتے ہیں۔
ڈاکٹر ضرورت کے مطابق ٹیٹنس سے بچاؤ کی ویکسین، اینٹی بایوٹک یا دیگر علاج تجویز کر سکتا ہے۔ زخم پر ٹانکے لگانے کا فیصلہ بھی طبی معائنے کے بعد کیا جانا چاہیے۔
صحت مند نظر آنے والے کتے کو بھی نظرانداز نہ کریں
صرف کتے کے بظاہر صحت مند دکھائی دینے سے خطرہ مکمل طور پر ختم نہیں ہو جاتا۔ بعض حالات میں جانور کو ماہرین کی نگرانی میں مقررہ مدت تک مشاہدے میں رکھا جا سکتا ہے۔
تاہم جانور کے مشاہدے کے دوران متاثرہ شخص کے طبی معائنے اور ضروری حفاظتی اقدامات میں بلاوجہ تاخیر نہیں ہونی چاہیے۔
علامات کا انتظار نہ کریں
ریبیز کے معاملے میں سب سے اہم بات یہ ہے کہ علامات ظاہر ہونے کا انتظار نہ کیا جائے۔ مشتبہ جانور کے کاٹنے یا خراش کے بعد فوری طور پر زخم دھونا اور طبی مرکز سے رابطہ کرنا ہی اہم ابتدائی قدم ہے۔
ریبیز سے بچاؤ کے لیے کتوں کی ویکسینیشن، جانوروں کی نگرانی، عوامی آگاہی اور متاثرہ افراد کو بروقت طبی سہولیات فراہم کرنا بھی بنیادی اقدامات میں شامل ہیں۔
اہم ہدایت: کتے کے کاٹنے یا ایسی خراش کی صورت میں جس سے جلد متاثر ہوئی ہو، زخم کو کم از کم 15 منٹ تک صابن اور بہتے پانی سے دھوئیں، زخم پر نقصان دہ گھریلو چیزیں نہ لگائیں اور جلد از جلد طبی مرکز سے رجوع کریں۔ ریبیز ویکسین، امیونوگلوبیولن، ٹیٹنس ویکسین یا اینٹی بایوٹک کی ضرورت کا فیصلہ طبی معائنے کے بعد کیا جانا چاہیے۔

Leave a reply