
روم: پوپ لیو نے مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے ممکنہ خطرات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس ٹیکنالوجی سے انسانیت کو لاحق خدشات کو محض افواہ یا جعلی خبر سمجھ کر نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔
فرانس کے دورے سے روم واپسی کے دوران صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے پوپ لیو نے کہا کہ مصنوعی ذہانت کے شعبے سے وابستہ ماہرین کی جانب سے اٹھائے جانے والے خدشات پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔
ان کے مطابق اے آئی کی ترقی کے ساتھ یہ بھی یقینی بنانا ضروری ہے کہ ٹیکنالوجی ایسے مرحلے تک نہ پہنچے جہاں اس کے نتائج انسانیت کے لیے انتہائی نقصان دہ ثابت ہوں۔
پوپ لیو نے زور دیا کہ مصنوعی ذہانت کو انسانوں کے فائدے کے لیے استعمال کرنے کے ساتھ ساتھ اس سے پیدا ہونے والے ممکنہ خطرات کا جائزہ بھی مسلسل لیا جانا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس مقصد کے لیے تحقیق، مطالعات اور عالمی سطح پر بامعنی مکالمے کو فروغ دینا ضروری ہے۔
یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب اے آئی کے ممکنہ خطرات اور اس کے ضابطہ کار سے متعلق عالمی سطح پر بحث جاری ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حال ہی میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کے دوران اے آئی سے متعلق بعض خطرات کے خدشات کو مسترد کیا تھا۔
پوپ لیو نے ٹیکنالوجی کمپنیوں کی جانب سے اے آئی کے حوالے سے حکومتی نگرانی اور ضوابط کی مخالفت پر بھی سوالات اٹھائے۔ انہوں نے خاص طور پر این ویڈیا کے چیف ایگزیکٹو جینسن ہوانگ کے بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اے آئی کی ترقی کے ساتھ حفاظتی پہلوؤں پر بھی توجہ دینا ضروری ہے۔
پوپ لیو کے مطابق دنیا کو اے آئی کے مستقبل کے بارے میں سنجیدہ بحث جاری رکھنی چاہیے اور ایسے حفاظتی اقدامات تلاش کرنے چاہییں جن سے اس ٹیکنالوجی کے فوائد حاصل کیے جا سکیں اور ممکنہ نقصانات کو محدود کیا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ اے آئی کے ممکنہ اثرات پر کام ابھی مکمل نہیں ہوا اور اس معاملے میں مزید تحقیق اور عالمی تعاون کی ضرورت ہے۔








