غزہ کی حمایت میں آواز اٹھانے والے فنکار، کئی معروف شخصیات گرفتار

0
0
غزہ کی حمایت میں آواز اٹھانے والے فنکار، کئی معروف شخصیات گرفتار

غزہ میں جاری جنگ اور انسانی بحران کے خلاف دنیا بھر میں فنکاروں اور معروف شخصیات کی جانب سے احتجاج اور اظہارِ یکجہتی کا سلسلہ جاری ہے۔ بعض شخصیات نے سوشل میڈیا کے ذریعے اپنا مؤقف سامنے رکھا، جبکہ کئی نے عملی طور پر احتجاجی مظاہروں میں شرکت کی، جس کے نتیجے میں انہیں گرفتاری یا قانونی کارروائی کا سامنا بھی کرنا پڑا۔

حالیہ واقعے میں امریکی اداکارہ سوسن سارینڈن اور ٹی وی سیریز ’ہیکس‘ سے شہرت حاصل کرنے والی ہانا آئن بائنڈر نیویارک میں اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹر کے قریب ہونے والے ایک احتجاج کے دوران پولیس کی حراست میں لی گئیں۔

یہ مظاہرہ ’جیوش وائس فار پیس‘ کی جانب سے منعقد کیا گیا تھا، جس میں شرکا نے اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو کی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے تقریر کے خلاف احتجاج کیا۔ رپورٹس کے مطابق مظاہرین کے سڑک پر بیٹھنے اور پولیس کی ہدایات پر جگہ خالی نہ کرنے کے بعد متعدد افراد کو گرفتار کیا گیا۔

اسی کارروائی کے دوران اداکار کیلیب ہیرون سمیت دیگر مظاہرین بھی حراست میں لیے گئے۔ منتظمین کے مطابق گرفتار ہونے والوں کی تعداد 100 سے زیادہ تھی۔

ہانا آئن بائنڈر نے گرفتاری کے بعد میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ احتجاج میں شریک معروف شخصیات کے بجائے غزہ میں موجود عام شہریوں کو درپیش انسانی صورتحال پر توجہ مرکوز ہونی چاہیے۔

لندن میں میسیو اٹیک کے رابرٹ ڈیل ناجا گرفتار

فلسطین کی حمایت میں احتجاج کرنے والی معروف شخصیات میں برطانوی موسیقار رابرٹ ڈیل ناجا بھی شامل ہیں، جو راک بینڈ ’میسیو اٹیک‘ سے وابستہ ہیں۔

لندن کے ٹرافالگر اسکوائر میں ہونے والے ایک مظاہرے کے دوران انہیں حراست میں لیا گیا۔ یہ احتجاج ’پیلسٹائن ایکشن‘ پر برطانوی پابندی کے خلاف کیا گیا تھا۔ پولیس کے مطابق اس احتجاج میں ممنوعہ تنظیم کی حمایت کے شبہے میں 500 سے زائد افراد کو گرفتار کیا گیا۔

ڈیل ناجا نے اپنے مؤقف میں کہا کہ وہ اپنے پیشہ ورانہ مستقبل پر ممکنہ اثرات سے آگاہ ہونے کے باوجود فلسطینیوں کے حق میں آواز اٹھانے کے فیصلے پر قائم ہیں۔

ہنٹر شیفر بھی احتجاج کے دوران حراست میں رہ چکی ہیں

’یوفوریا‘ کی اداکارہ ہنٹر شیفر بھی غزہ کے معاملے پر ہونے والے احتجاج میں گرفتاری کا سامنا کر چکی ہیں۔

وہ نیویارک میں این بی سی کے دفاتر کے باہر ہونے والے ایک مظاہرے میں شریک تھیں، جہاں اس وقت کے امریکی صدر جو بائیڈن ’لیٹ نائٹ ود سیٹھ میئرز‘ میں شرکت کے لیے پہنچے تھے۔ پولیس نے اس موقع پر 30 سے زائد مظاہرین کو حراست میں لیا تھا۔

اسرائیل میں سوشل میڈیا پوسٹس پر کارروائیاں

غزہ کے معاملے پر اظہارِ رائے کرنے والے بعض فنکاروں کو اسرائیل میں بھی قانونی کارروائیوں کا سامنا کرنا پڑا۔

عرب اسرائیلی اداکارہ مائیسا عبد الہادی کو غزہ جنگ سے متعلق سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ کے بعد دہشت گردی پر اکسانے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔ ان کے وکیل جعفر فرح نے اس کارروائی پر اعتراض کیا۔

فلسطینی نژاد گلوکارہ دلال ابو آمغنہ کو بھی سوشل میڈیا پر اپنے خیالات کے اظہار کے بعد مختصر حراست کا سامنا کرنا پڑا۔

ان واقعات کے علاوہ اسرائیل میں عرب اقلیت سے تعلق رکھنے والے بعض افراد کے خلاف ملازمتوں اور تعلیمی اداروں سے متعلق تادیبی اقدامات کی اطلاعات بھی سامنے آتی رہی ہیں۔

فنکاروں کا سیاسی اظہار اور قانونی حدود

غزہ جنگ کے بعد فنکاروں اور دیگر معروف شخصیات کا سیاسی و انسانی حقوق سے متعلق اظہارِ رائے عالمی سطح پر ایک اہم بحث بن چکا ہے۔ احتجاج میں شرکت، سوشل میڈیا پوسٹس اور عوامی بیانات کے باعث بعض شخصیات کو گرفتاری، مقدمات یا پیشہ ورانہ دباؤ کا سامنا کرنا پڑا۔

تاہم ہر واقعے کی قانونی نوعیت، الزامات اور ممکنہ نتائج الگ ہیں اور ان کا انحصار متعلقہ ملک کے قوانین اور کیس کے مخصوص حالات پر ہوتا ہے۔

Leave a reply