
ڈبلن: جمہوریہ آئرلینڈ کی فٹ بال ٹیم کے گول کیپر گیون بازونو نے اسرائیل کے خلاف ہونے والے میچ میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور اپنے ساتھی کھلاڑیوں کو بھی اس بارے میں آگاہ کر دیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق یہ معاملہ یوفا نیشنز لیگ کے میچ سے قبل سامنے آیا، جس کے بعد آئرش ٹیم کے اندر مشاورت کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ کھلاڑیوں اور کوچنگ اسٹاف کی ملاقات کے باعث ٹیم کی ٹریننگ اور پریس کانفرنس میں بھی تاخیر ہوئی۔
اسرائیل کے خلاف میچ کو لے کر آئرلینڈ میں پہلے ہی شدید بحث جاری ہے۔ آئرش مڈفیلڈر جیسن نائٹ میچ منسوخ کرنے کا مطالبہ کر چکے ہیں، جبکہ 160 سے زائد آئرش فٹ بال کھلاڑیوں نے ایک کھلے خط کے ذریعے قومی ٹیم سے اسرائیل کے خلاف میچ کے بائیکاٹ پر غور کرنے کی اپیل کی ہے۔
آئرش ٹیم کے ہیڈ کوچ ہیمیر ہالگریمسن نے بھی اسرائیل کے خلاف میچ کے حوالے سے اپنے مؤقف کا اظہار کیا ہے۔ ان کے بیان پر اسرائیلی فٹ بال حکام کی جانب سے سخت ردعمل سامنے آیا اور کوچ کے مؤقف کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔
دوسری جانب آئرش فٹ بال ایسوسی ایشن اسرائیل کی یوفا رکنیت معطل کرنے کے مطالبے کی حمایت کر چکی ہے، تاہم اس نے نیشنز لیگ میں اسرائیل کے خلاف میچ نہ کھیلنے کی تجویز کی حمایت نہیں کی۔ حکام نے خبردار کیا ہے کہ میچ سے دستبرداری کی صورت میں آئرلینڈ کو کھیلوں کے ضوابط کے تحت مختلف نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
رپورٹس کے مطابق آئرلینڈ اور اسرائیل کی ٹیمیں 4 اکتوبر کو سربیا کے شہر باچکا ٹوپولا میں دوبارہ مدِمقابل ہوں گی۔ آئرلینڈ میں میچ کے انعقاد سے متعلق انتظامی مشکلات کے باعث اسے ملک سے باہر منتقل کیا گیا ہے، جبکہ یہ مقابلہ تماشائیوں کے بغیر بند دروازوں کے پیچھے کھیلا جائے گا۔
اس تنازع نے آئرلینڈ میں غزہ کی جنگ، اسرائیل کے ساتھ کھیلوں کے تعلقات اور ملک میں بڑھتی ہوئی سیاسی و سماجی بحث کو بھی مزید نمایاں کر دیا ہے۔









