قومیں کب تھک جاتی ہیں؟

قومیں کب تھک جاتی ہیں؟

تحریر:پروفیسر ڈاکٹر محبوب حسین

قومیں اچانک نہیں تھکتیں۔ ان کے اعصاب پر وقت کی ایک لمبی دستک ہوتی ہے، بحرانوں کی ایک مسلسل قطار ہوتی ہے، امیدوں کے بار بار ٹوٹنے کی ایک داستان ہوتی ہے۔ پھر ایک دن قوم بظاہر معمول کی زندگی گزار رہی ہوتی ہے، مگر اس کے اندر کہیں ایک سوال جنم لے چکا ہوتا ہے کہ آخر کب تک؟

بطور مورخ جب میں تاریخ کے اوراق پلٹتا ہوں تو محسوس ہوتا ہے کہ بڑی سلطنتیں ہمیشہ جنگ کے میدان میں شکست کھا کر ختم نہیں ہوتیں۔ بعض اوقات ان کے اندر کا اعتماد پہلے کمزور ہوتا ہے۔ادارے موجود رہتے ہیں، ریاست موجود رہتی ہے، شہر آباد رہتے ہیں، مگر لوگوں کے دلوں میں مستقبل کا یقین مدھم پڑنے لگتا ہے۔شاید قومی تھکن کی اصل علامت یہی ہے۔

پاکستان کی تاریخ بھی بحرانوں سے خالی نہیں۔ قیامِ پاکستان کے بعد سیاسی عدم استحکام، آئینی تجربات، 1958 کا مارشل لا، 1971ء کا قومی سانحہ، 1977ء کا بحران اور اس کے بعد کی سیاسی کشمکش یہ ہماری تاریخ کے محض ابواب نہیں بلکہ ہماری اجتماعی یادداشت کا حصہ ہیں۔

مورخ کے لئے سوال صرف یہ نہیں کہ کیا ہوا؛ سوال یہ بھی ہے کہ جو کچھ ہوا، اس نے قوم کے مزاج کو کیسے بدلا؟1971ء نے پاکستان کے جغرافیے کو ہی نہیں بدلا، قومی اعتماد کو بھی گہرا صدمہ پہنچایا۔ بعد کے عشروں میں سیاسی عدم استحکام اور ادارہ جاتی کشمکش نے بھی معاشرے میں ایسی کیفیت پیدا کی جس میں استحکام معمول کے بجائے ایک خواہش بن گیااور جب بے یقینی معمول بن جائے تو قوم صرف پریشان نہیں ہوتی، تھک جاتی ہے۔

آج پاکستان میں اس تھکن کے کئی مظاہر نظر آتے ہیں۔ معاشی دباؤ، مہنگائی، روزگار کے محدود مواقع اور مستقبل کے بارے میں بے یقینی نے عام آدمی کی زندگی کو مشکل بنایا ہے ستمبر 2026ء کے ای پی ایس او ایس کے سروے کے مطابق صرف 24 فیصد پاکستانی سمجھتے ہیں کہ ملک درست سمت میں جا رہا ہے، جبکہ مہنگائی،بیروز گاری اور غربت بڑے عوامی خدشات میں شامل ہیں۔ لیکن اسی سروے میں یہ بھی سامنے آیا کہ مثبت سوچ 2024ء کے مقابلے میں بہتر ہوئی ہے۔یہ اعداد ہمیں ایک اہم بات بتاتے ہیں: ہماری مشکلات حقیقی ہیں، لیکن ہماری امید بھی حقیقی ہے۔دنیا کی تاریخ میں ایسی قوموں کی مثالیں موجود ہیں جنہوں نے تباہی کے بعد خود کو دوبارہ تعمیر کیا۔ دوسری جنگ ِ عظیم کے بعد یورپ کا بیشتر حصہ ملبے میں تبدیل ہو چکا تھا۔ جاپان نے جنگ کی تباہی کے بعد ایک نئے سفر کا آغاز کیا۔ جنوبی کوریا نے جنگ اور غربت کے بعد اپنے معاشرے کو بدل ڈالا۔

ان مثالوں کی اپنی تاریخی پیچیدگیاں ہیں، مگر ایک سبق مشترک ہے قومیں صرف وسائل سے نہیں اٹھتیں، اعتماد، اور مستقبل کے مشترکہ تصور سے اٹھتی ہیں۔ پاکستان کے پاس بھی یہ صلاحیت موجود ہے۔ہمارے نوجوان ہماری سب سے بڑی قوت ہیں۔ ہماری جامعات میں تحقیق ہو رہی ہے، ہمارے سائنس دان عالمی سطح پر اپنا مقام بنا رہے ہیں، ہمارے کاروباری نوجوان نئی منڈیاں تلاش کر رہے ہیں، ہماری بیرونِ ملک پاکستانی برادری ملک سے اپنا تعلق قائم رکھے ہوئے ہے۔مشکلات کے باوجود پاکستانی معاشرہ ہر روز نئی زندگی پیدا کرتا ہے۔ یہ بھی ہماری تاریخ کا حصہ ہے۔یہاں ایک اہم فرق سمجھنا ہوگا، مایوسی اور تھکن ایک چیز نہیں۔ مایوس انسان امید چھوڑ دیتا ہے۔تھکا ہوا انسان امید رکھتا ہے، مگر اسے دلیل اور ثبوت چاہیے۔ پاکستانی معاشرہ شاید اسی مقام پر کھڑا ہے۔لوگ اب بھی اپنے بچوں کو تعلیم دلاتے ہیں، کاروبار کرتے ہیں، گھر بناتے ہیں، مشکلات میں ایک دوسرے کا سہارا بنتے ہیں اور ہر بحران کے بعد زندگی کو نئے سرے سے ترتیب دیتے ہیں۔یہ کسی شکست خوردہ قوم کی علامات نہیں۔

یہ ایک ایسی قوم کی نشانیاں ہیں جو مشکلات سے لڑتے لڑتے تھک ضرور گئی ہے، مگر جس کے اندر آگے بڑھنے کی خواہش اب بھی زندہ ہے۔ تو پھر سوال یہ ہے کہ اس تھکن کا علاج کیا ہے؟اس کا جواب کسی ایک حکومت، کسی ایک سیاسی جماعت یا کسی ایک ادارے کے پاس نہیں۔ قوموں کو محض نئے وعدوں کی نہیں، قابلِ اعتبار راستے کی ضرورت ہوتی ہے۔ریاست کو تسلسل چاہیے، سیاست کو برداشت، اداروں کو قانون کی بالادستی، معیشت کو پائیدار سمت اور معاشرے کو اختلاف کے باوجود ایک دوسرے کو سننے کا حوصلہ اور سب سے بڑھ کر ہمیں اپنی نوجوان نسل پر اعتماد کرنا ہو گا۔ بطور استاد مجھے پاکستان کے مستقبل کے بارے میں سب سے زیادہ اُمید اسی نوجوان نسل سے ہے۔ میں روز دیکھتا ہوں کہ ہمارے نوجوان سوال کرتے ہیں، سیکھتے ہیں، دنیا سے مقابلہ کرنا چاہتے ہیں اور نئی راہیں تلاش کرتے ہیں۔ ان میں صلاحیت کی کمی نہیں؛ انہیں صرف ایسا ماحول درکار ہے جہاں محنت کا صلہ، میرٹ کی قدر اور مستقبل کا راستہ واضح ہو۔

ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہئے کہ قومیں صرف حکومتوں سے نہیں بنتیں۔ قومیں اساتذہ، طلبہ، محنت کشوں، کاروباری افراد، سائنس دانوں، کسانوں اور عام شہریوں کے روزمرہ کردار سے بنتی ہیں۔اسی لئے پاکستان کے بارے میں میری آخری بات مایوسی کی نہیں، امید کی ہے۔ہم نے مشکل وقت دیکھے ہیں، لیکن ہر مشکل وقت کے بعد زندگی نے اپنا راستہ بنایا ہے۔ ہم نے شکستیں دیکھی ہیں، مگر کامیابیاں بھی حاصل کی ہیں۔ ہم نے بحران دیکھے ہیں، مگر ہر بحران میں ایسے لوگ بھی سامنے آئے جنہوں نے امید کو زندہ رکھا۔ ہمیں آج بھی اسی امید کی ضرورت ہے۔

اگر ہم اپنی تاریخ سے سبق سیکھیں، اپنی غلطیوں کو تسلیم کریں، اپنے اداروں کو مضبوط کریں، نوجوانوں پر اعتماد کریں اور اختلاف کو دشمنی کے بجائے مکالمے میں بدل دیں تو یہی تھکی ہوئی قوم ایک نئی توانائی کے ساتھ آگے بڑھ سکتی ہے۔تاریخ کا حسن یہی ہے کہ وہ ہمیں صرف ماضی نہیں دکھاتی، مستقبل کے امکانات بھی دکھاتی ہے اور پاکستان کی تاریخ کا مطالعہ مجھے یہ یقین دیتا ہے کہ ہماری داستان ابھی مکمل نہیں ہوئی۔ہم تھکے ہوئے ضرور ہیں، لیکن شکست خوردہ نہیں۔ہمیں صرف آرام نہیں، ایک واضح سمت چاہئے اور سمت مل جائے تو یہ قوم پھر بہت دور تک چل سکتی ہے
پروفیسر ڈاکٹر محبوب حسین کا یہ کالم روزنامہ پاکستان میں 22 ستمبر 2026 کو شائع ہوا ۔

Leave a reply