وعدوں کے درمیان پستا پاکستان

وعدوں کے درمیان پستا پاکستان

تحریر:اسامہ ذوالفقار راحت

پاکستان آج ایسے دور سے گزر رہا ہے جہاں وعدے بہت ہیں، دعوے بہت ہیں، سیاسی بیانات بہت ہیں، مگر عام آدمی کی زندگی میں آسانی کم ہوتی جا رہی ہے۔ ایک طرف سیاسی جماعتیں اپنی اپنی جنگ میں مصروف ہیں، دوسری طرف عوام مہنگائی، بے روزگاری، بجلی، گیس، پٹرول اور روزمرہ اخراجات کے بوجھ تلے مسلسل پستی جا رہی ہے۔
سوال صرف یہ نہیں کہ ملک میں سیاست کیا رخ اختیار کر رہی ہے، اصل سوال یہ ہے کہ اس سارے سیاسی شور میں عام آدمی کہاں کھڑا ہے؟
پاکستانی عوام نے ہر دور میں مشکل حالات کا سامنا کیا، مگر آج ایک عام گھرانے کا ماہانہ بجٹ بنانا بھی ایک امتحان بن چکا ہے۔ تنخواہ وہی، اخراجات زیادہ، بجلی کا بل الگ، گیس کا بل الگ، بچوں کی فیس، گھر کا راشن، ادویات، سفر اور پٹرول—ہر طرف اخراجات بڑھتے جا رہے ہیں۔
ایک مزدور صبح گھر سے اس امید پر نکلتا ہے کہ شام کو اتنا کما لے گا کہ بچوں کے لیے کھانا خرید سکے۔ ایک تنخواہ دار شخص مہینے کے آغاز میں ہی حساب لگانا شروع کر دیتا ہے کہ اس محدود آمدنی میں گھر کیسے چلے گا۔ ایک چھوٹا کاروباری شخص بجلی، کرایے، ٹیکس اور دیگر اخراجات کے درمیان اپنا کاروبار بچانے کی کوشش کر رہا ہے۔
یہ وہ پاکستان ہے جو اعداد و شمار سے زیادہ انسانوں کے چہروں پر نظر آتا ہے۔
سب سے زیادہ تشویش نوجوان نسل کے مستقبل کے حوالے سے ہے۔ لاکھوں نوجوان تعلیم حاصل کرنے کے بعد روزگار کی تلاش میں ہیں۔ ڈگری موجود ہے، قابلیت موجود ہے، محنت کرنے کا جذبہ موجود ہے، مگر مناسب مواقع محدود ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سے نوجوان بیرونِ ملک بہتر مستقبل تلاش کرنے کا سوچتے ہیں۔
ایک ملک کی اصل طاقت اس کے نوجوان ہوتے ہیں۔ اگر نوجوان اپنے ہی ملک میں مستقبل کے بارے میں غیر یقینی کا شکار ہو جائیں تو یہ صرف نوجوانوں کا مسئلہ نہیں رہتا بلکہ پورے معاشرے کے لیے سوال بن جاتا ہے۔
دوسری جانب سیاسی میدان میں کشمکش جاری ہے۔ پاکستان تحریک انصاف اور مسلم لیگ ن سمیت مختلف سیاسی قوتیں اپنے اپنے سیاسی مؤقف کے ساتھ میدان میں موجود ہیں۔ جلسے، احتجاج، ریلیاں اور سیاسی بیانات مسلسل قومی بحث کا حصہ بن رہے ہیں۔ 27 ستمبر کی سیاسی سرگرمیوں کے حوالے سے بھی سیاسی ماحول میں گرمی دکھائی دے رہی ہے۔
جمہوری معاشرے میں سیاسی اختلاف اور احتجاج عوام کا حق ہے، لیکن سیاسی جماعتوں کے ساتھ ایک بڑی ذمہ داری بھی جڑی ہوتی ہے کہ سیاسی سرگرمیوں کے ساتھ عوام کے بنیادی مسائل بھی ان کی ترجیحات میں شامل رہیں۔
عام آدمی یہ جاننا چاہتا ہے کہ اس کی زندگی کب آسان ہوگی؟
وہ پوچھتا ہے کہ روزگار کے مواقع کب بڑھیں گے؟
وہ پوچھتا ہے کہ بجلی کے بل اس کی آمدنی کے مطابق کب ہوں گے؟
وہ پوچھتا ہے کہ پٹرول کی قیمت میں معمولی کمی کو بھی اتنا بڑا ریلیف کیوں سمجھا جائے جب مجموعی اخراجات مسلسل زیادہ ہوں؟
وہ پوچھتا ہے کہ تعلیم، صحت اور روزگار کے بنیادی مسائل کب مستقل بنیادوں پر حل ہوں گے؟
یہ سوال کسی ایک سیاسی جماعت سے نہیں، پورے نظام سے ہیں۔
پاکستان کو آج ایسی سیاست کی ضرورت ہے جس میں اختلاف ضرور ہو مگر قومی مفاد بھی سامنے ہو۔ حکومت کو اپنی کارکردگی کا جواب دینا ہوگا، اپوزیشن کو اپنی سیاسی ذمہ داری نبھانی ہوگی اور ہر سیاسی قوت کو یہ سمجھنا ہوگا کہ عوام صرف ووٹ دینے والی تعداد نہیں بلکہ اس ملک کے اصل Stakeholders ہیں۔
عوام کو وعدوں سے زیادہ عملی نتائج چاہیے۔
نوجوانوں کو تقریروں سے زیادہ روزگار چاہیے۔
کاروباری طبقے کو غیر یقینی کے بجائے مستحکم ماحول چاہیے۔
غریب خاندانوں کو وقتی ریلیف سے زیادہ مستقل معاشی تحفظ چاہیے۔
اور سب سے بڑھ کر پاکستان کو ایسی پالیسیوں کی ضرورت ہے جو عام آدمی کی قوتِ خرید، روزگار اور بنیادی سہولیات کو مرکز بنائیں۔
کیونکہ مہنگائی صرف ایک معاشی اصطلاح نہیں۔ مہنگائی اس ماں کی پریشانی ہے جو راشن کی فہرست میں سے ضروری چیزیں کم کرتی ہے۔ مہنگائی اس باپ کی فکر ہے جو بچوں کی فیس اور گھر کے بل کے درمیان انتخاب کرنے پر مجبور ہوتا ہے۔ مہنگائی اس نوجوان کی بے بسی ہے جو نوکری نہ ملنے کے باعث اپنے مستقبل کے بارے میں سوچتا رہتا ہے۔
وعدے ہر دور میں ہوتے ہیں، مگر عوام نتائج دیکھنا چاہتی ہے۔
پاکستان کو اب ایسے وعدوں کی نہیں جن کے ساتھ عمل نہ ہو، بلکہ ایسے فیصلوں کی ضرورت ہے جن کا اثر عام آدمی کی زندگی میں محسوس ہو۔
سیاست اپنی جگہ، اختلاف اپنی جگہ، اقتدار کی کشمکش اپنی جگہ—مگر عوام کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔
کیونکہ جب ایک قوم کا عام شہری مسلسل مشکلات برداشت کرتا رہے تو ایک وقت آتا ہے جب سوال صرف مہنگائی کا نہیں رہتا، سوال نظام پر اعتماد کا بن جاتا ہے۔
آج پاکستان کے سامنے سب سے بڑا چیلنج صرف معاشی بحران نہیں بلکہ امید کا بحران بھی ہے۔
اس امید کو زندہ رکھنا ہوگا۔
نوجوان کو یقین دلانا ہوگا کہ اس کا مستقبل پاکستان میں بھی ہے۔
محنت کش کو یقین دلانا ہوگا کہ اس کی محنت کا صلہ اسے ملے گا۔
متوسط طبقے کو یقین دلانا ہوگا کہ وہ مسلسل دباؤ میں نہیں رہے گا۔
اور عام آدمی کو یقین دلانا ہوگا کہ ریاست اس کے مسائل کو صرف انتخابی وعدوں کے طور پر نہیں بلکہ حقیقی ذمہ داری کے طور پر دیکھتی ہے۔
ورنہ سوال پھر وہی رہے گا:
وعدوں کے درمیان پستا پاکستان آخر کب تک پستا رہے گا؟

Leave a reply