
لاہور: اسلام آباد میں متوقع احتجاج اور لانگ مارچ کے معاملے پر حکومت اور پاکستان تحریک انصاف کے درمیان سیاسی کشیدگی میں مزید اضافہ ہوگیا ہے۔ حکومت نے احتجاج کی صورت میں سخت اقدامات کا عندیہ دیا ہے، جبکہ پی ٹی آئی نے گرفتاریوں اور حکومتی پالیسی پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد کی جانب احتجاجی پیش قدمی کی تیاریاں کی جا رہی ہیں، تاہم ان کے بقول اس اقدام سے ملک، معیشت اور عام شہری متاثر ہوں گے۔
انہوں نے پی ٹی آئی قیادت کو موجودہ صورتحال میں مزید آگے بڑھنے سے گریز کا مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ حکومت اس مرتبہ احتجاج کے معاملے کو مستقل بنیادوں پر حل کرنے کے لیے اقدامات کرے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے احکامات پر مکمل عمل درآمد یقینی بنایا جائے گا۔
محسن نقوی نے خیبر پختونخوا کی صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ صوبے میں سکیورٹی کے مسائل موجود ہیں اور ایسے حالات میں احتجاجی سرگرمیوں کے اثرات پر بھی غور کرنا چاہیے۔
بانی پی ٹی آئی عمران خان کی صحت سے متعلق سوال پر وزیر داخلہ نے کہا کہ ان کا طبی معائنہ ہوچکا ہے اور علاج قانون کے مطابق کیا جائے گا۔
دوسری جانب پی ٹی آئی چیئرمین بیرسٹر گوہر نے پارٹی کارکنوں اور ارکان اسمبلی کی گرفتاریوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایسے اقدامات سے سیاسی ماحول مزید کشیدہ ہوسکتا ہے۔
ان کے مطابق ارکان قومی و صوبائی اسمبلی اور ان کے اہل خانہ کی گرفتاریوں کے بجائے سیاسی کشیدگی کم کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی انصاف کے حصول اور اپنے سیاسی مطالبات کے لیے آواز اٹھا رہی ہے۔
ادھر وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے بھی حکومتی اقدامات پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ صوبے اور ملک میں سیاسی حالات کو مزید خراب کرنے کے بجائے مسائل کا سیاسی حل تلاش کیا جانا چاہیے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ پی ٹی آئی رہنماؤں اور کارکنوں کے خلاف کارروائیاں کی جا رہی ہیں اور کہا کہ 27 ستمبر کو پارٹی اپنی سیاسی سرگرمیوں کے حوالے سے اہم اقدام کرے گی۔
حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث آئندہ دنوں میں اسلام آباد میں احتجاج، گرفتاریوں اور سیاسی سرگرمیوں کے حوالے سے صورتحال اہم رہنے کا امکان ہے۔









