اسلام آباد میں ممکنہ احتجاج، سیکیورٹی انتظامات سخت کرنے کا فیصلہ

0
18
اسلام آباد میں ممکنہ احتجاج، سیکیورٹی انتظامات سخت کرنے کا فیصلہ

اسلام آباد: وفاقی دارالحکومت میں مختلف سیاسی جماعتوں کے ممکنہ احتجاج کے پیش نظر سیکیورٹی انتظامات مزید سخت کرنے کی تیاریاں شروع کردی گئی ہیں۔ حکام نے خیبرپختونخوا سے اسلام آباد آنے والے راستوں کی نگرانی بڑھانے اور احتجاجی قافلوں کی آمد روکنے کے لیے مختلف اقدامات پر کام شروع کردیا ہے۔

ذرائع کے مطابق موٹروے، جی ٹی روڈ اور دیگر اہم راستوں پر رکاوٹیں کھڑی کرنے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے، جبکہ 26 نمبر چونگی اور مارگلہ، ٹیکسلا کے اطراف بھی ممکنہ طور پر خندقیں کھودی جائیں گی۔ اسلام آباد کی اہم شاہراہوں پر موجود کنٹینرز میں مٹی سے بھری بوریاں رکھنے کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے۔

حکام کے مطابق ریڈ زون کے اطراف سیکیورٹی مزید مضبوط کی جارہی ہے اور ٹریفک کی آمدورفت کو کنٹرول کرنے کے لیے اضافی انتظامات کیے جارہے ہیں۔

راولپنڈی میں پولیس نفری کی تعیناتی

ممکنہ احتجاج کے دوران امن و امان برقرار رکھنے کے لیے راولپنڈی میں بھی بڑے پیمانے پر پولیس نفری تعینات کیے جانے کی تیاری ہے۔ ذرائع کے مطابق پنجاب پولیس نے 48 تعلیمی اداروں میں اہلکاروں کے قیام کے لیے ضلعی انتظامیہ سے رابطہ کیا ہے۔

پنجاب کے مختلف اضلاع سے ہزاروں پولیس اہلکار آئندہ چند روز میں راولپنڈی پہنچیں گے۔ ذرائع کے مطابق یہ نفری اسلام آباد اور راولپنڈی میں سیکیورٹی صورتحال معمول پر رکھنے کے لیے یکم اکتوبر تک موجود رہ سکتی ہے۔

عطا تارڑ: پرتشدد گروہ کو اسلام آباد آنے کی اجازت نہیں ہوگی

وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے کہا ہے کہ کسی بھی پرتشدد گروہ کو اسلام آباد میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی جائے گی، تاہم راستے کھلے رکھنے کی کوشش کی جائے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کی ہدایات کی روشنی میں عوام کی آزادانہ نقل و حرکت متاثر نہیں ہونے دی جائے گی۔ انہوں نے جماعت اسلامی کے کارکنوں کو پرامن قرار دیتے ہوئے کہا کہ قانون کا اطلاق سب کے لیے یکساں ہوگا۔

جماعت اسلامی کا ٹرین مارچ اسلام آباد روانہ

دوسری جانب پیٹرولیم لیوی اور مہنگائی کے خلاف جماعت اسلامی کا احتجاجی ٹرین مارچ کراچی سے اسلام آباد کے لیے روانہ ہوگیا ہے۔ جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمان کی قیادت میں قافلہ رحمان بابا ایکسپریس کے ذریعے اسلام آباد کی جانب سفر کررہا ہے۔

حیدرآباد ریلوے اسٹیشن پر جماعت اسلامی کے کارکنوں نے حافظ نعیم الرحمان کا استقبال کیا۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی پیٹرولیم لیوی اور مہنگائی کے خلاف عوام کے حقوق کی جدوجہد کررہی ہے۔

حافظ نعیم الرحمان کے مطابق پیٹرول پر عائد لیوی عوام پر اضافی مالی بوجھ ہے اور حکومت کو اس حوالے سے عوام کو ریلیف دینا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹرین مارچ اسلام آباد پہنچے گا اور حکومت سے مطالبات تسلیم کرنے کا مطالبہ کیا جائے گا۔

جماعت اسلامی نے اس سے قبل کراچی میں گورنر ہاؤس کے باہر کئی ہفتوں تک احتجاجی دھرنا بھی دیا تھا، جسے ہفتے کے روز ختم کیا گیا۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کی ہدایات

اسلام آباد ہائی کورٹ نے 27 ستمبر کو ممکنہ احتجاج سے متعلق مقدمے میں قرار دیا تھا کہ سیاسی جماعتیں عوامی سڑکوں، شاہراہوں اور دیگر عوامی مقامات پر قبضہ کرکے شہریوں کی آمدورفت میں رکاوٹ نہیں ڈال سکتیں۔

عدالت نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی تھی کہ عدالتی احکامات پر عمل درآمد یقینی بنایا جائے اور شہریوں کی آزادانہ نقل و حرکت متاثر نہ ہو۔

پمز اور پولی کلینک میں ہائی الرٹ

ممکنہ احتجاج کے باعث اسلام آباد کے بڑے سرکاری اسپتالوں میں بھی ہنگامی انتظامات مکمل کرلیے گئے ہیں۔ پمز اور پولی کلینک اسپتالوں میں 30 ستمبر تک ہائی الرٹ برقرار رکھنے کی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔

اس دوران ڈاکٹرز، نرسز، پیرا میڈیکس اور دیگر ضروری عملے کی دستیابی یقینی بنانے کے لیے خصوصی ڈیوٹی روسٹرز ترتیب دیے گئے ہیں جبکہ بیشتر عملے کی چھٹیوں کو محدود کردیا گیا ہے۔

پمز میں ایمرجنسی، آئی سی یو، ٹراما سینٹر، آپریشن تھیٹر، بلڈ بینک اور دیگر اہم شعبوں کو مکمل فعال رکھنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ بڑی تعداد میں زخمیوں یا مریضوں کی آمد کی صورت میں اضافی بیڈز، اسٹریچرز، وہیل چیئرز، ادویات، آکسیجن اور طبی سامان دستیاب رکھنے کے انتظامات بھی کیے گئے ہیں۔

پمز ایمرجنسی میں اضافی بیڈز مختص کیے گئے ہیں جبکہ ایمبولینسز کو بھی ہر وقت تیار رکھنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

پولی کلینک میں بھی ایمرجنسی عملے کو دستیاب رہنے، ایمبولینسز تیار رکھنے اور بلڈ بینک میں خون کا مناسب ذخیرہ برقرار رکھنے کی ہدایات دی گئی ہیں۔

اسپتال انتظامیہ کے مطابق کسی بھی ہنگامی صورتحال میں فوری طبی ردعمل یقینی بنانے کے لیے متعلقہ شعبوں کے افسران اور عملے کو الرٹ رکھا گیا ہے۔

Leave a reply