کوہاٹ حملہ: پاکستان کا افغان طالبان سے دہشت گرد نیٹ ورکس کے خلاف کارروائی کا مطالبہ

0
9
کوہاٹ حملہ: پاکستان کا افغان طالبان سے دہشت گرد نیٹ ورکس کے خلاف کارروائی کا مطالبہ

اسلام آباد: کوہاٹ پولیس لائنز پر ہونے والے دہشت گرد حملے کے بعد پاکستان نے افغان طالبان حکومت سے افغانستان میں موجود دہشت گرد گروہوں کے خلاف مؤثر، مستقل اور قابلِ تصدیق کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

وزارتِ اطلاعات و نشریات کے مطابق کوہاٹ حملے میں ملوث ایک خودکش حملہ آور کی شناخت افغان شہری کے طور پر ہوئی ہے، جس سے پاکستان کے ان خدشات میں اضافہ ہوا ہے کہ افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف دہشت گرد کارروائیوں کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔

حکام کے مطابق حملے میں ایک خودکش بمبار کی شناخت مطیع اللہ کے نام سے ہوئی ہے، جبکہ دوسرے حملہ آور کی شناخت کے حوالے سے تحقیقات جاری ہیں۔

کوہاٹ پولیس لائنز کی مسجد میں جمعہ کی نماز کے دوران ہونے والے حملے کے بعد سکیورٹی فورسز کا کلیئرنس آپریشن اگلے روز تک جاری رہا۔ حکام کے مطابق کارروائی میں 8 دہشت گرد ہلاک ہوئے، جبکہ حملے میں 17 پولیس اہلکاروں اور 6 شہریوں سمیت 23 افراد جان کی بازی ہار گئے۔ سو سے زائد افراد زخمی بھی ہوئے۔

پاکستانی وزارتِ اطلاعات کا کہنا ہے کہ افغان سرزمین سے سرگرم دہشت گرد گروہوں کے ٹھکانے، بھرتی کے مراکز اور معاون نیٹ ورکس پاکستان کے لیے سنگین سکیورٹی خطرہ ہیں۔ پاکستان اس معاملے کو افغان طالبان حکومت کے سامنے متعدد مرتبہ اٹھا چکا ہے۔

وزارت نے افغان طالبان پر زور دیا ہے کہ وہ دہشت گردوں کے مراکز ختم کرنے، بھرتی اور تربیتی نیٹ ورکس کو توڑنے اور پاکستان کے خلاف حملوں کی منصوبہ بندی روکنے کے لیے ایسے اقدامات کریں جن کی مؤثر طور پر تصدیق بھی ممکن ہو۔

پاکستان نے افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کی جانب سے دیے گئے سخت ردعمل کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔ وزارتِ اطلاعات کے مطابق افغان حکام کو پاکستان کو دھمکیاں دینے کے بجائے دہشت گرد گروہوں کے خلاف عملی کارروائی پر توجہ دینی چاہیے۔

پاکستانی حکام نے افغان وزارتِ خارجہ کی جانب سے حملے کی مذمت اور متاثرہ خاندانوں سے اظہارِ ہمدردی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ صرف مذمت کافی نہیں بلکہ دہشت گردوں کے خلاف عملی اقدامات بھی ضروری ہیں۔

وزارت کے مطابق پاکستان افغان طالبان کے ساتھ مذاکرات اور تعمیری روابط کے ذریعے مسائل حل کرنے کی پالیسی پر قائم ہے، تاہم ایسے عناصر کے لیے کسی قسم کی گنجائش نہیں دی جا سکتی جو پاکستانی شہریوں کی سلامتی کے لیے خطرہ بنیں۔

حکومت نے واضح کیا ہے کہ پاکستان اپنے شہریوں، سرزمین اور خودمختاری کے تحفظ کے لیے عالمی قوانین کے دائرے میں رہتے ہوئے ضروری اقدامات کرے گا۔

پاکستان نے عالمی برادری سے بھی مطالبہ کیا ہے کہ وہ افغانستان میں موجود دہشت گرد نیٹ ورکس کے خلاف مؤثر اقدامات کے لیے افغان طالبان حکومت پر زور دے، کیونکہ ایسے گروہوں کی موجودگی خطے کی مجموعی سلامتی اور استحکام کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔

Leave a reply