ایران نے امریکا سے مذاکرات کی بحالی کے لیے شرائط ثالث ممالک کے ذریعے پہنچا دیں

ایران نے امریکا سے مذاکرات کی بحالی کے لیے شرائط ثالث ممالک کے ذریعے پہنچا دیں
تہران: ایران نے امریکا کے ساتھ سفارتی مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کے لیے اپنی شرائط پاکستان اور قطر کے ذریعے واشنگٹن تک پہنچانے کا دعویٰ کیا ہے۔
ایرانی اعلیٰ سکیورٹی عہدیدار محسن رضائی نے الجزیرہ کو انٹرویو دیتے ہوئے بتایا کہ تہران کی جانب سے مذاکرات کی بحالی کے لیے چند بنیادی مطالبات پیش کیے گئے ہیں، جن میں خطے میں جاری محاذ آرائی کا خاتمہ، ایرانی منجمد اثاثوں کی بحالی اور بحری ناکہ بندی کا خاتمہ شامل ہے۔
محسن رضائی کے مطابق ایران اپنے موجودہ مؤقف میں تبدیلی کا ارادہ نہیں رکھتا اور اس معاملے پر پاکستانی اور قطری حکام سے رابطہ برقرار ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب تہران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے جواب کا انتظار کر رہا ہے۔
ایرانی عہدیدار نے خطے کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے سعودی عرب اور یمن کے حوثیوں کے درمیان کشیدگی ختم کرنے کی خواہش کا بھی اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ حوثی بھی سعودی عرب کے ساتھ کسی ممکنہ سمجھوتے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔
امریکی پالیسی کے حوالے سے محسن رضائی نے کہا کہ سابقہ مفاہمت کی خلاف ورزی کے بعد ایران نے واشنگٹن کے بارے میں اپنی حکمت عملی پر نظرثانی کی ہے۔ ان کے مطابق تہران اب امریکا کے ساتھ معاملات میں پہلے سے مختلف انداز اختیار کر رہا ہے۔
انہوں نے ایران کی دفاعی صلاحیتوں کے بارے میں بھی متعدد دعوے کیے اور کہا کہ تہران امریکی فوج کی صلاحیتوں اور کمزوریوں سے واقف ہے۔ ان کے مطابق ایران نے ممکنہ فوجی کارروائی کا جواب دینے کے لیے اپنی دفاعی تیاری مزید بہتر بنائی ہے۔
محسن رضائی نے دعویٰ کیا کہ ایران نے حالیہ عرصے میں ایک امریکی طیارہ بردار بحری جہاز کے قریب اینٹی شپ میزائل کا تجربہ بھی کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران پر حملے کی صورت میں تہران خطے میں موجود امریکی فوجی اڈوں اور امریکی مفادات کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
ایرانی عہدیدار نے خطے میں جاری کشیدگی کی ذمہ داری اسرائیلی قیادت پر عائد کی اور کہا کہ ایران اپنی دفاعی پالیسی میں کسی قسم کی نرمی کا ارادہ نہیں رکھتا۔
ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی کے تناظر میں ثالث ممالک کے ذریعے رابطوں کی یہ پیش رفت خطے میں ممکنہ سفارتی کوششوں کی جانب اشارہ کرتی ہے، تاہم واشنگٹن کی جانب سے ان شرائط پر باضابطہ ردعمل سامنے آنا ابھی باقی ہے۔









