
لاہور: مائگرین محض عام سر درد نہیں بلکہ ایک ایسی کیفیت ہے جس میں شدید دھڑکتا ہوا درد، متلی، روشنی یا شور سے حساسیت اور بعض اوقات نظر سے متعلق علامات بھی ظاہر ہوسکتی ہیں۔
ماہرین کے مطابق روزمرہ زندگی کی بعض عادات مائگرین کے حملوں کو متحرک یا ان کی شدت میں اضافہ کرسکتی ہیں۔ ان عادات پر قابو پانے سے بعض افراد کو درد کی شدت اور تکرار کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔
کھانے میں طویل وقفہ:
کئی گھنٹے بھوکا رہنا یا کھانے کے اوقات میں مسلسل تبدیلی بعض افراد کے لیے مائگرین کا محرک بن سکتی ہے۔ بہتر ہے کہ کھانے کا معمول باقاعدہ رکھا جائے اور متوازن غذا استعمال کی جائے۔
نیند میں بے قاعدگی:
کم نیند، دیر تک جاگنا یا سونے جاگنے کے اوقات میں بار بار تبدیلی بھی سر درد کو بڑھا سکتی ہے۔ روزانہ تقریباً ایک ہی وقت پر سونے اور بیدار ہونے کی کوشش مفید ہوسکتی ہے۔
اسکرین کا زیادہ استعمال:
موبائل فون، کمپیوٹر اور لیپ ٹاپ کی اسکرین کو مسلسل دیکھنے سے آنکھوں کی تھکن اور سر درد کی شکایت ہوسکتی ہے۔ مائگرین کے مریضوں میں تیز روشنی یا اسکرین کی چمک بھی مسئلہ پیدا کرسکتی ہے، اس لیے وقفے لینا بہتر ہے۔
ذہنی دباؤ:
مسلسل پریشانی، کام کا دباؤ اور ذہنی تھکن بھی بعض افراد میں مائگرین کو متحرک کرسکتے ہیں۔ آرام، مناسب نیند اور ہلکی جسمانی سرگرمی کے لیے وقت نکالنا مددگار ہوسکتا ہے۔
پانی کم پینا:
جسم میں پانی کی کمی سر درد کا باعث بن سکتی ہے اور بعض افراد میں مائگرین کا حملہ شروع کرسکتی ہے۔ گرمی یا ورزش کے دوران جسم کو مناسب مقدار میں پانی فراہم کرنا خاص طور پر اہم ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ہر شخص کے مائگرین کے محرکات مختلف ہوسکتے ہیں۔ اس لیے مریض اپنے سر درد کا ریکارڈ رکھیں اور نوٹ کریں کہ درد سے پہلے انہوں نے کیا کھایا، کتنی نیند لی، پانی کتنا پیا اور ذہنی دباؤ کی کیفیت کیا تھی۔
اگر سر درد بار بار ہونے لگے، معمول سے زیادہ شدید ہو یا اس کے ساتھ اچانک نظر کی خرابی، بولنے میں دشواری، جسم کے کسی حصے میں کمزوری یا بے ہوشی جیسی علامات ظاہر ہوں تو فوری طبی امداد حاصل کرنی چاہیے۔









