مدینہ منورہ کے قریب یورینیئم اور معدنی ذخائر کی بڑی دریافت

0
11
مدینہ منورہ کے قریب یورینیئم اور معدنی ذخائر کی بڑی دریافت

سعودی عرب نے مدینہ منورہ کے قریب معدنی وسائل کے بڑے ذخیرے کی دریافت کا اعلان کیا ہے، جس میں یورینیئم سمیت مختلف اہم معدنیات شامل ہونے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔

سعودی وزیرِ توانائی شہزادہ عبدالعزیز بن سلمان نے ویانا میں بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کی جنرل کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ جبل صاید منصوبے کے علاقے میں ہونے والی ارضیاتی تحقیقات کے دوران تقریباً 110 ملین ٹن خام معدنی مواد کی موجودگی کا اندازہ لگایا گیا ہے۔

ان کے مطابق دریافت ہونے والے ذخائر میں یورینیئم کے علاوہ دیگر قیمتی اور کمیاب معدنی وسائل بھی شامل ہیں، جس سے اس علاقے کی معدنی اہمیت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔

سعودی وزیرِ توانائی نے کہا کہ مملکت اپنے جوہری توانائی کے منصوبوں کو بین الاقوامی تعاون اور شفافیت کے اصولوں کے تحت آگے بڑھا رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ توانائی کے ذرائع اور معدنی وسائل میں تنوع سعودی عرب کی معاشی ترقی اور مستقبل کی سپلائی سیکیورٹی کے لیے اہم ہے۔

یہ پیش رفت سعودی عرب کے وژن 2030 کے تناظر میں بھی اہم قرار دی جا رہی ہے، جس کے تحت مملکت تیل پر انحصار کم کرنے، معدنی شعبے کو وسعت دینے اور توانائی کے متبادل ذرائع تیار کرنے پر توجہ دے رہی ہے۔

یورینیئم کے ممکنہ بڑے ذخائر کی دریافت سعودی عرب کے سویلین نیوکلیئر پروگرام اور معدنی وسائل کی صنعت کے لیے اہم پیش رفت ثابت ہو سکتی ہے۔ تاہم، اس ذخیرے کی مقدار، معیار اور قابلِ استعمال یورینیئم کی حقیقی مقدار کا تعین مزید تفصیلی ارضیاتی اور تکنیکی جائزوں سے ہی ممکن ہوگا۔

Leave a reply