حوثیوں کا باب المندب پر کنٹرول کا دعویٰ، اہم ساحلی علاقوں میں پیش قدمی

0
25
حوثیوں کا باب المندب پر کنٹرول کا دعویٰ، اہم ساحلی علاقوں میں پیش قدمی

یمن میں حوثی فورسز نے بحیرۂ احمر کے اہم ساحلی علاقوں اور باب المندب کے قریب وسیع علاقے پر کنٹرول حاصل کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

حوثی رہنما محمد البخیتی کے مطابق انصار اللہ کی فورسز نے صوبہ تعز میں متعدد اہم مقامات اور فوجی تنصیبات اپنے قبضے میں لے لی ہیں، جن میں الخالد اور جبل النصر کے علاقے شامل ہیں۔

ایرانی میڈیا کی رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ حوثی جنگجو المخا بندرگاہ کے داخلی حصوں تک پہنچ گئے ہیں جبکہ المخا ایئرپورٹ پر بھی قبضہ کر لیا گیا ہے۔ حوثیوں کی پیش قدمی کے دوران مزاحمت کرنے والے متعدد افراد کے ہتھیار ڈالنے کی بھی اطلاعات ہیں۔

حوثی فورسز کا کہنا ہے کہ انہوں نے حالیہ کارروائیوں کے دوران 6 ہزار مربع کلومیٹر سے زائد علاقے میں پیش قدمی کی ہے۔ ان دعوؤں کی آزاد ذرائع سے مکمل تصدیق تاہم مشکل ہے۔

بحیرۂ احمر اور باب المندب عالمی تجارت کے لیے انتہائی اہم سمندری راستے ہیں، جہاں سے تیل، گیس، خوراک اور دیگر اشیا کی بڑی مقدار گزرتی ہے۔ اس لیے علاقے میں کسی بھی فریق کی عسکری پیش قدمی عالمی بحری تجارت اور توانائی کی ترسیل پر اثر انداز ہوسکتی ہے۔

رپورٹس کے مطابق حوثیوں نے المخا کے علاوہ حیس شہر اور خالد بن ولید فوجی اڈے پر بھی قبضے کا دعویٰ کیا ہے۔ عسکری ذرائع کی جانب سے جنوبی بحیرۂ احمر میں واقع ذُقر جزیرے پر حوثیوں کے قبضے کا دعویٰ بھی سامنے آیا ہے۔

دوسری جانب یمن میں حوثیوں اور حکومت کی حمایت کرنے والی فورسز کے درمیان لڑائی میں شدت آنے کے ساتھ سعودی عرب کے جنوبی علاقوں پر میزائل اور ڈرون حملوں کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں، جس کے بعد سعودی فورسز کی جانب سے حوثیوں کے خلاف فضائی کارروائیوں میں اضافے کی اطلاعات ہیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق اگر حوثی بحیرۂ احمر کی ساحلی پٹی اور باب المندب کے اطراف اپنی پوزیشن مزید مضبوط کرتے ہیں تو اس سے خطے میں عسکری کشیدگی کے ساتھ عالمی بحری آمدورفت کو بھی نئے خطرات لاحق ہوسکتے ہیں۔

Leave a reply