اگست 2026 عالمی تاریخ کا گرم ترین مہینہ قرار

ویب ڈیسک: موسمیاتی تبدیلی کے اثرات میں مزید شدت سامنے آئی ہے، یورپی موسمیاتی ادارے کوپرنیکس کلائمیٹ چینج سروس کے مطابق اگست 2026 میں عالمی سطح پر اوسط درجہ حرارت ریکارڈ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا۔
رپورٹ کے مطابق اگست کے دوران دنیا کا اوسط فضائی درجہ حرارت 16.96 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ ہوا، جو 1991 سے 2020 کے اوسط کے مقابلے میں تقریباً 0.85 ڈگری سینٹی گریڈ زیادہ ہے۔
ماہرین کے مطابق سمندری سطح کے درجہ حرارت میں غیر معمولی اضافہ بھی اس صورتحال کی اہم وجوہات میں شامل ہے۔ جون سے اگست تک کا عرصہ بھی ریکارڈ پر سب سے گرم موسمِ گرما قرار دیا گیا ہے۔
کوپرنیکس کے ماہرین کا کہنا ہے کہ انسانی سرگرمیوں کے نتیجے میں گرین ہاؤس گیسوں میں اضافے کے ساتھ ساتھ بحرالکاہل میں ایل نینو کی شدت نے بھی عالمی درجہ حرارت بڑھانے میں کردار ادا کیا۔
ایل نینو کے دوران بحرالکاہل کے بڑے حصے کا پانی معمول سے زیادہ گرم ہوجاتا ہے، جس کے اثرات عالمی درجہ حرارت اور موسمی نظام پر بھی مرتب ہوتے ہیں۔ اس کے برعکس لا نینا کے دوران بحرالکاہل کے پانی کا درجہ حرارت نسبتاً کم رہتا ہے۔
رپورٹ میں ایک غیر معمولی پہلو یہ بھی سامنے آیا کہ اگست کا عالمی درجہ حرارت جولائی سے بھی زیادہ رہا، حالانکہ عام طور پر جولائی کو سال کا گرم ترین مہینہ سمجھا جاتا ہے۔
ماہرین کے مطابق دنیا کے مختلف خطوں میں شدید گرمی اور دیگر موسمیاتی اثرات پہلے ہی نمایاں ہوچکے ہیں، جبکہ طویل مدت میں موسمی شدت میں مزید اضافے کا خدشہ برقرار ہے۔
اگست 2026 کا عالمی اوسط درجہ حرارت صنعتی دور سے پہلے کے مقابلے میں 1.65 ڈگری سینٹی گریڈ زیادہ رہا۔ یہ نومبر 2025 کے بعد پہلا مہینہ بھی ہے جب عالمی درجہ حرارت صنعتی دور سے پہلے کی سطح کے مقابلے میں 1.5 ڈگری سینٹی گریڈ سے زیادہ ریکارڈ کیا گیا۔
واضح رہے کہ 2015 کے پیرس ماحولیاتی معاہدے میں عالمی درجہ حرارت میں اضافے کو طویل مدت میں 1.5 ڈگری سینٹی گریڈ تک محدود رکھنے کا ہدف مقرر کیا گیا تھا۔
ماحولیاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں مطلوبہ کمی نہ آنے کے باعث اس ہدف کا حصول مسلسل مشکل ہوتا جارہا ہے، جس سے دنیا کو مستقبل میں مزید شدید موسمیاتی خطرات کا سامنا ہوسکتا ہے۔









