
ویب ڈیسک: ٹیکنالوجی کمپنی ایپل نے نئے آئی فون ماڈلز متعارف کرانے کے ساتھ پرانے آئی فونز کی قیمتوں میں کمی کرنے کے بجائے کئی ماڈلز کو مزید مہنگا کر دیا ہے۔
ایپل نے 9 ستمبر کو آئی فون 18 سیریز کے نئے ماڈلز، آئی فون 18 پرو، آئی فون 18 پرو میکس اور اپنے فولڈ ایبل آئی فون ڈو کی رونمائی کی۔ عموماً نئے ماڈلز کی آمد کے بعد کمپنی گزشتہ نسل کے فونز کی قیمت کم کرتی ہے، تاہم اس مرتبہ صورتحال مختلف رہی۔
امریکی مارکیٹ میں آئی فون 16 کی قیمت میں 100 ڈالر کا اضافہ کیا گیا ہے۔ یہ ماڈل کچھ عرصے سے 699 ڈالر میں دستیاب تھا، تاہم اب اس کی قیمت دوبارہ 799 ڈالر مقرر کر دی گئی ہے، جو اس کی ابتدائی لانچ قیمت کے برابر ہے۔
اسی طرح رواں سال مارچ میں 599 ڈالر میں متعارف کرایا گیا آئی فون 17 ای اب 699 ڈالر میں فروخت ہوگا۔
آئی فون 17 کی قیمت بھی 799 ڈالر سے بڑھا کر 899 ڈالر کر دی گئی ہے، جبکہ آئی فون ایئر کی قیمت 999 ڈالر کے بجائے 1099 ڈالر مقرر کی گئی ہے۔
یوں ایپل کے متعدد موجودہ ماڈلز نئے آئی فونز کی لانچ کے بعد توقع کے برعکس سستے ہونے کے بجائے مزید مہنگے ہو گئے ہیں۔
قیمتوں میں اضافے کی ایک بڑی وجہ چپس سمیت مختلف ہارڈویئر پرزہ جات کی بڑھتی ہوئی لاگت کو قرار دیا جا رہا ہے۔ کمپنی کی جانب سے پہلے بھی اس حوالے سے لاگت میں اضافے کے ممکنہ اثرات کا عندیہ دیا جا چکا ہے۔









