خاموشی سے بڑھتا بوجھ

خاموشی سے بڑھتا بوجھ

تحریر:نور فاطمہ

معیشت کے بعض اعداد و شمار بظاہر امید کی تصویر پیش کرتے ہیں۔ ترسیلاتِ زر میں اضافہ ہو، زرمبادلہ کے ذخائر بہتر ہوں، کرنٹ اکاؤنٹ کا دباؤ کم ہو یا ٹیکس وصولیوں میں بہتری آئے تو حکومت کے لیے یہ اعداد معاشی استحکام کی دلیل بن سکتے ہیں۔ لیکن معیشت کی اصل کیفیت صرف سرکاری جدولوں اور مالیاتی رپورٹوں میں نہیں ملتی۔ اس کا ایک چہرہ پٹرول پمپ پر بھی دکھائی دیتا ہے، جہاں ایک عام شہری گاڑی یا موٹر سائیکل میں ایندھن ڈلوانے سے پہلے اپنی جیب کا حساب لگاتا ہے۔
یہی وہ مقام ہے جہاں معاشی اعداد و شمار اور عام آدمی کی زندگی ایک دوسرے سے جڑتے ہیں۔
پٹرول کی قیمت میں معمولی سا اضافہ بھی بظاہر چند روپے کا معاملہ محسوس ہوتا ہے، مگر اس کے اثرات کہیں زیادہ وسیع ہوتے ہیں۔ پٹرول صرف گاڑی کا ایندھن نہیں بلکہ روزمرہ معاشی سرگرمی کا ایک اہم جز ہے۔ دفتر جانے والا ملازم، بچوں کو اسکول چھوڑنے والا والد، اپنی دکان تک پہنچنے والا کاروباری شخص اور روزانہ اجرت کمانے والا مزدور، سب کسی نہ کسی شکل میں ایندھن کی قیمت سے متاثر ہوتے ہیں۔
اس سے بھی زیادہ اہم بات یہ ہے کہ ہر شہری اپنی گاڑی استعمال نہیں کرتا، لیکن ایندھن کی قیمت میں اضافے کا بوجھ پھر بھی اس تک پہنچ جاتا ہے۔ مال بردار ٹرک جب منڈی سے شہر تک سامان پہنچاتا ہے، بس مسافروں کو ایک علاقے سے دوسرے علاقے لے جاتی ہے، کسان اپنی فصل کو منڈی تک منتقل کرتا ہے یا فیکٹری اپنی مصنوعات گودام تک پہنچاتی ہے تو ہر مرحلے پر ایندھن ایک لاگت بن کر شامل ہوتا ہے۔ آخرکار یہ لاگت اشیائے ضروریہ کی قیمت میں منتقل ہوجاتی ہے۔
اسی لیے پٹرول مہنگا ہونے کا مطلب صرف پٹرول مہنگا ہونا نہیں ہے۔
ڈیزل کی قیمت میں اضافہ تو مزید حساس معاملہ ہے۔ پاکستان کی زرعی، صنعتی اور مال برداری کی سرگرمی کا ایک بڑا حصہ ڈیزل سے وابستہ ہے۔ ٹریکٹر، ٹیوب ویل، ٹرک، بسیں اور بھاری مشینری جب مہنگی توانائی استعمال کریں گی تو پیداوار اور نقل و حمل کے اخراجات بھی بڑھیں گے۔ کسان کی لاگت بڑھے گی تو فصل کی قیمت متاثر ہوگی، ٹرانسپورٹر کا خرچ بڑھے گا تو کرایہ بڑھے گا اور صنعت کی لاگت میں اضافہ ہوگا تو مصنوعات بھی مہنگی ہوسکتی ہیں۔
یوں پٹرول پمپ پر شروع ہونے والا اضافہ بالآخر گھر کے کچن تک پہنچ جاتا ہے۔
یہاں بنیادی سوال یہ نہیں کہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمت کیا ہے یا حکومت کو اپنے مالی اہداف کیسے پورے کرنے ہیں۔ یہ دونوں عوامل اپنی جگہ اہم ہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ جب عوام پہلے ہی محدود آمدن، مہنگی بجلی، بلند اشیائے ضروریہ کی قیمتوں اور بڑھتے ہوئے روزمرہ اخراجات کا سامنا کررہے ہوں تو حکومت اضافی بوجھ کو کس حد تک جذب کرسکتی ہے۔
ریاست کے پاس محصولات جمع کرنے کے متعدد ذرائع موجود ہوتے ہیں۔ پٹرولیم مصنوعات پر عائد ٹیکس اور لیوی بھی سرکاری آمدن کا اہم ذریعہ ہیں۔ لیکن مالیاتی نظم و ضبط کا مطلب یہ نہیں ہونا چاہیے کہ ہر مشکل کا فوری حل صارف پر مزید بوجھ ڈالنا بن جائے۔ اگر ایک طرف حکومت زیادہ محصولات حاصل کرے اور دوسری طرف مہنگائی کے نتیجے میں عوام کی قوت خرید مسلسل کم ہوتی جائے تو مجموعی معیشت کے لیے اس پالیسی کے طویل مدتی اثرات پر بھی غور کرنا ہوگا۔
کمزور قوت خرید صرف گھریلو مسئلہ نہیں ہوتی۔ جب لوگ کم خریدتے ہیں تو کاروبار کی فروخت متاثر ہوتی ہے۔ کاروبار کمزور ہو تو پیداوار اور سرمایہ کاری پر اثر پڑتا ہے۔ پیداوار کم ہو تو روزگار کے مواقع محدود ہوسکتے ہیں۔ اس طرح ایک ایسا دائرہ وجود میں آتا ہے جس میں مہنگائی، کم کھپت اور کمزور معاشی سرگرمی ایک دوسرے کو تقویت دینے لگتے ہیں۔
اس لیے پٹرولیم پالیسی کو صرف خزانے کی آمدن کے زاویے سے دیکھنا مناسب نہیں۔ اسے مجموعی معاشی سرگرمی کے تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔
ایک اور اہم مسئلہ قیمتوں کے تعین میں شفافیت کا ہے۔ جب پٹرولیم مصنوعات کی قیمت میں اضافہ ہوتا ہے تو عام صارف کے لیے یہ جاننا مشکل ہوتا ہے کہ عالمی خام تیل کی قیمت، درآمدی اخراجات، شرح مبادلہ، ٹیکس، لیوی، ڈیلر مارجن اور دیگر اخراجات میں سے ہر ایک کا حتمی قیمت میں کتنا حصہ ہے۔
حکومت اگر قیمت بڑھانے کا فیصلہ کرتی ہے تو اسے صرف نئی قیمت کا اعلان نہیں کرنا چاہیے بلکہ اس کی مکمل وضاحت بھی عوام کے سامنے رکھنی چاہیے۔ شفاف حساب کتاب اعتماد پیدا کرتا ہے۔ اس کے برعکس اگر عوام کو قیمتوں کے تعین کا طریقہ واضح نہ ہو تو ہر اضافہ شک اور بے اعتمادی کو جنم دیتا ہے۔
قیمتوں میں کمی کے بعد اس کمی کا مکمل فائدہ صارف تک نہ پہنچنا بھی ایک اہم مسئلہ ہے۔ اگر ایندھن مہنگا ہو تو ٹرانسپورٹ اور اشیا کے نرخ فوراً بڑھ جاتے ہیں، لیکن جب ایندھن سستا ہو تو ہر شعبے میں اسی رفتار سے قیمتیں کم نہیں ہوتیں۔ اس غیر متوازن رویے کی نگرانی حکومت کی ذمہ داری ہے۔
خاص طور پر ایسے وقت میں جب بجلی کے نرخ بھی گھریلو اور کاروباری بجٹ پر دباؤ ڈال رہے ہوں، حکومت کو پٹرولیم قیمتوں کے اثرات کو الگ تھلگ دیکھنے کے بجائے پورے معاشی منظرنامے میں پرکھنا ہوگا۔ ایک خاندان کے لیے پٹرول، بجلی، گیس، خوراک، تعلیم اور علاج کے اخراجات الگ الگ نہیں ہوتے۔ یہ سب ایک ہی محدود آمدن سے پورے کیے جاتے ہیں۔
اسی لیے معاشی استحکام کا سب سے اہم پیمانہ شاید یہ ہونا چاہیے کہ عام گھرانے کی زندگی کتنی قابلِ برداشت ہوئی ہے۔
حکومت کے لیے مالیاتی نظم و ضبط یقیناً ضروری ہے۔ زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری، بیرونی ادائیگیوں کی صلاحیت اور محصولات میں اضافہ بھی معیشت کے لیے اہم کامیابیاں ہیں۔ لیکن ان کامیابیوں کو پائیدار بنانے کے لیے ضروری ہے کہ معاشی استحکام کے ثمرات عام شہری تک بھی پہنچیں۔
اگر معیشت کے بڑے اشاریے بہتر ہوتے جائیں مگر عام آدمی کی آمدن کے مقابلے میں اس کے اخراجات مسلسل بڑھتے رہیں تو معاشی بحالی کا فائدہ ادھورا رہ جاتا ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تعین میں شفافیت بڑھائے، ٹیکس اور لیوی کی پالیسی کا عوامی قوتِ خرید کے تناظر میں جائزہ لے، مصنوعی مہنگائی کے خلاف مؤثر نگرانی کرے اور توانائی کی قیمتوں کے مجموعی اثرات کو مدنظر رکھتے ہوئے ایک مربوط پالیسی تشکیل دے۔
معیشت صرف ڈالر، ذخائر، محصولات اور شرح نمو کا نام نہیں۔ معیشت اس مزدور کا گھر بھی ہے جو روزانہ کام پر جانے کے لیے موٹر سائیکل میں پٹرول ڈلواتا ہے۔ یہ اس کسان کی فصل بھی ہے جو ڈیزل کی قیمت سے متاثر ہوتی ہے۔ یہ اس چھوٹے تاجر کی دکان بھی ہے جس کے اخراجات بڑھ جاتے ہیں۔ اور یہ اس خاندان کا ماہانہ بجٹ بھی ہے جسے ہر مہینے محدود آمدن میں بڑھتے ہوئے اخراجات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
اس لیے پٹرول کی ہر نئی قیمت کو صرف ایک مالیاتی فیصلہ سمجھنا درست نہیں۔ یہ ایک ایسا فیصلہ ہے جس کے اثرات پورے معاشی نظام میں پھیلتے ہیں۔
ریاست کو اگر حقیقی معاشی استحکام حاصل کرنا ہے تو اسے صرف یہ نہیں دیکھنا ہوگا کہ خزانے میں کتنی رقم آرہی ہے، بلکہ یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ شہری کی جیب میں کتنی رقم باقی بچ رہی ہے۔ کیونکہ مضبوط معیشت وہ نہیں جس کے اعداد و شمار صرف کاغذ پر بہتر ہوں، بلکہ وہ ہے جس میں عام آدمی اپنی ضروریات پوری کرنے کے بعد مستقبل کے بارے میں کچھ امید بھی رکھ سکے۔

Leave a reply