
اسلام آباد: دودھ روزمرہ خوراک کا اہم حصہ ہے، تاہم ملاوٹ کے خدشات کے باعث صارفین کے لیے اس کے معیار کو جانچنا ضروری ہو گیا ہے۔ ماہرین کے مطابق بعض اوقات پانی ملے دودھ کو گاڑھا اور جھاگ دار دکھانے کے لیے اس میں ڈٹرجنٹ یا صابن جیسے مادے شامل کیے جا سکتے ہیں۔
بھارتی فوڈ سیفٹی اینڈ اسٹینڈرڈز اتھارٹی (FSSAI) کی جانب سے ایک سادہ گھریلو طریقہ بتایا گیا ہے جسے دودھ میں ممکنہ ڈٹرجنٹ کی موجودگی کا ابتدائی اندازہ لگانے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
ٹیسٹ کا آسان طریقہ
اس مقصد کے لیے تھوڑی مقدار، تقریباً 5 سے 10 ملی لیٹر دودھ، ایک صاف چھوٹے گلاس میں ڈالیں۔ دودھ کو کچھ دیر زور سے ہلانے کے بعد اس میں بننے والی جھاگ کا مشاہدہ کریں۔
اگر ہلانے کے بعد معمولی جھاگ بنے اور وہ جلد ختم ہو جائے تو اسے عام طور پر تشویش کی علامت نہیں سمجھا جاتا۔ دوسری جانب غیر معمولی طور پر زیادہ جھاگ بننے اور اس کے کافی دیر تک برقرار رہنے کی صورت میں دودھ میں ڈٹرجنٹ کی ممکنہ ملاوٹ کا شبہ کیا جا سکتا ہے۔
صرف گھریلو ٹیسٹ پر انحصار نہ کریں
ماہرین کے مطابق یہ طریقہ حتمی یا لیبارٹری ٹیسٹ کا متبادل نہیں ہے۔ دودھ کے معیار کے بارے میں سنجیدہ شک کی صورت میں اسے استعمال کرنے سے گریز کرنا اور مستند فوڈ سیفٹی ادارے یا منظور شدہ لیبارٹری سے باقاعدہ تجزیہ کروانا زیادہ قابلِ اعتماد طریقہ ہے۔
دودھ خریدتے وقت احتیاط ضروری
صارفین کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ دودھ ہمیشہ قابلِ اعتماد ذریعے سے خریدیں۔ پیکٹ یا ڈبہ لیتے وقت پیکنگ کی حالت، کمپنی کی تفصیلات، تاریخِ تیاری اور میعادِ استعمال ضرور چیک کریں۔
مشتبہ پیکنگ، غیر معمولی بو، رنگ یا ساخت کی صورت میں دودھ استعمال نہ کرنا بہتر ہے۔ روزمرہ استعمال کی اس اہم غذا کے معاملے میں احتیاط ہی صحت کے ممکنہ خطرات سے بچنے کا بہتر طریقہ ہے۔








