
مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی مدد سے تیار کی جانے والی ادویات کے شعبے میں ایک نئی تحقیق نے سائنس کی دنیا میں دلچسپی پیدا کردی ہے۔ محققین کے مطابق ایک تجرباتی دوا کے استعمال سے بعض افراد میں حیاتیاتی عمر کے پیمانوں میں نمایاں کمی دیکھی گئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق اس دوا کا نام رینٹوسرٹِب ہے، جسے ابتدائی طور پر پھیپھڑوں سے متعلق ایک بیماری کے علاج کے لیے تیار کیا گیا تھا۔ بعد ازاں طبی آزمائشوں کے دوران محققین نے اس کے جسم میں عمر سے وابستہ بعض تبدیلیوں پر ممکنہ اثرات کا جائزہ لیا۔
تحقیق میں چین میں 2023 اور 2024 کے دوران 42 افراد کو شامل کیا گیا۔ شرکا کی جسمانی حالت کا جائزہ لینے کے لیے حیاتیاتی عمر جانچنے کے چھ مختلف سائنسی طریقے استعمال کیے گئے۔
نتائج میں بتایا گیا کہ دوا استعمال کرنے والے افراد کے خون کے نمونوں میں 12 ہفتوں کے دوران حیاتیاتی عمر کے کئی پیمانوں میں کمی ریکارڈ ہوئی۔ بعض تجزیوں میں علاج شروع ہونے کے صرف چار ہفتوں بعد بھی نمایاں تبدیلی سامنے آئی۔
تاہم محققین نے واضح کیا ہے کہ حیاتیاتی عمر میں کمی کا مطلب یہ نہیں کہ انسان کی حقیقی عمر کم ہوگئی یا اس کی زندگی لازماً طویل ہوجائے گی۔ یہ پیمانے جسم میں عمر سے متعلق تبدیلیوں کا اندازہ لگانے کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں، جبکہ ان کے طویل المدتی طبی اثرات الگ سے ثابت کرنا ضروری ہیں۔
اس دوا کی تیاری میں مصنوعی ذہانت کا بھی اہم کردار بتایا گیا ہے۔ اے آئی سسٹمز کے ذریعے طبی معلومات، خون کے ٹیسٹ اور سائنسی ڈیٹا کا تجزیہ کرکے بیماری سے متعلق ممکنہ اہداف کی نشاندہی کی گئی، جس کے بعد نئے مالیکیولز کی تیاری اور جانچ کے عمل میں ٹیکنالوجی استعمال کی گئی۔
ماہرین کے مطابق یہ نتائج ادویات کی تیاری میں اے آئی کے بڑھتے ہوئے کردار کی ایک دلچسپ مثال ہیں، لیکن تحقیق ابھی ابتدائی مرحلے میں ہے۔ زیادہ افراد پر طویل مدتی اور بڑے پیمانے کے کلینیکل ٹرائلز کے بغیر یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ دوا واقعی بڑھاپے کے عمل کو سست کرتی ہے یا انسانی زندگی میں اضافہ کرسکتی ہے۔
اس لیے عام افراد کے لیے بھی اس دوا کو اینٹی ایجنگ علاج کے طور پر استعمال کرنا فی الحال سائنسی طور پر ثابت شدہ یا منظور شدہ طریقہ نہیں ہے۔









