
اسلام آباد: شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے آئندہ سربراہی اجلاس کے انتظامات کے سلسلے میں 30 نئی بلٹ پروف گاڑیوں کی خریداری کے لیے حکومت کی جانب سے 6 ارب 60 کروڑ روپے کی گرانٹ منظور کیے جانے پر سیاسی اور معاشی حلقوں میں بحث شروع ہوگئی ہے۔
اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) کا اجلاس وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی صدارت میں ہوا، جس میں غیر ملکی سربراہان اور اعلیٰ سطحی وفود کی آمدورفت کے لیے نئی بلٹ پروف گاڑیوں کی خریداری سے متعلق سمری پر غور کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق کابینہ ڈویژن نے گاڑیوں کی خریداری کے لیے 12 ارب 60 کروڑ روپے مانگے تھے، تاہم ای سی سی نے ابتدائی طور پر 6 ارب 60 کروڑ روپے کی رقم کی منظوری دی اور معاملے پر مزید جائزہ لینے کی ہدایت کی۔
حکومت کے اس فیصلے پر اپوزیشن اور بعض معاشی ماہرین نے اخراجات پر سوالات اٹھائے ہیں۔ سابق وفاقی وزیر فواد چوہدری نے سوشل میڈیا پر ردعمل دیتے ہوئے حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ ایسے وقت میں جب عوام کو مہنگائی اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا سامنا ہے، اتنی بڑی رقم گاڑیوں کی خریداری پر خرچ کرنے کا فیصلہ قابلِ غور ہے۔
خیبرپختونخوا حکومت کے مشیر اور معاشی ماہر مزمل اسلم نے بھی سوال اٹھایا کہ اگر گاڑیوں کی ضرورت صرف اجلاس کے چند روز کے لیے ہے تو انہیں مستقل طور پر خریدنے کے بجائے عارضی طور پر کرائے پر حاصل کیوں نہیں کیا جاتا۔
گیلپ پاکستان کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر بلال گیلانی نے بھی حکومتی اخراجات کے حوالے سے فیصلے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں مالی وسائل کی کمی کا ذکر کیا جاتا ہے، تاہم اہم سرکاری تقریبات کے لیے بڑی رقوم مختص کی جا رہی ہیں۔
واضح رہے کہ پاکستان کو شنگھائی تعاون تنظیم کی صدارت ایک سال کے لیے حاصل ہوئی ہے، جبکہ تنظیم کا سربراہی اجلاس 2027 میں اسلام آباد میں منعقد ہونا ہے۔ اجلاس میں رکن ممالک کے اعلیٰ حکام اور سربراہان کی شرکت متوقع ہے، جس کے لیے حکومت سکیورٹی اور دیگر انتظامات کر رہی ہے۔








