
اسلام آباد: وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ مشکل اور ضروری معاشی فیصلوں کے باعث ملک میں استحکام آیا ہے، جسے اب پائیدار بنانا حکومت کی بنیادی ترجیح ہے۔ پاکستان کو دوبارہ معاشی عروج و زوال کے سلسلے میں نہیں جانے دیا جائے گا۔
اسلام آباد میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ معاشی استحکام کے بعد اب ملک کو پائیدار اقتصادی ترقی کی طرف لے جانے کا مرحلہ شروع ہو چکا ہے۔ اس مقصد کے لیے بنیادی ڈھانچے اور معیشت کے مختلف شعبوں میں اصلاحات کا عمل جاری رکھنا ضروری ہے۔
محمد اورنگزیب کے مطابق گزشتہ چند برسوں میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی ٹیکس آمدن میں نمایاں بہتری آئی ہے، جبکہ ٹیکس ٹو جی ڈی پی تناسب 8.8 فیصد سے بڑھ کر 10.3 فیصد تک پہنچ گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ مجموعی مالیاتی خسارہ بھی 12.5 فیصد سے کم ہو کر 2.6 فیصد رہ گیا ہے۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ حکومت سرمایہ کاری کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنے اور سرمایہ کاروں کو سہولتیں فراہم کرنے پر توجہ دے رہی ہے۔ ان کے بقول معاشی ترقی میں نجی شعبے کو زیادہ فعال کردار دینا ہوگا اور نجی سرمائے کو ملکی معیشت میں متحرک کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ اور نجکاری کے ذریعے سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا کیے جا سکتے ہیں۔ بنیادی ڈھانچے اور عوامی خدمات سے متعلق منصوبوں میں نجی شعبے کی شمولیت بڑھانے کی ضرورت ہے۔
محمد اورنگزیب کا کہنا تھا کہ نجکاری کے عمل میں شفافیت، بہتر کارکردگی اور سرمایہ کاروں کے اعتماد کو اولین ترجیح دی جائے گی۔ حکومت اور نجی شعبے کے درمیان تعاون کو مزید مضبوط بنا کر معاشی سرگرمیوں میں تیزی لائی جا سکتی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ حکومت مختصر مدت میں ٹیکس ٹو جی ڈی پی تناسب کو 11 سے 12 فیصد تک لے جانے کا ہدف رکھتی ہے۔ ان کے مطابق گزشتہ مالی سال آئی ٹی سروسز کی برآمدات 4.6 ارب ڈالر رہیں، جبکہ فری لانسرز نے آئی ٹی برآمدات میں تقریباً 1.6 ارب ڈالر کا حصہ ڈالا۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ ملکی اشیا کی برآمدات تقریباً 30 ارب ڈالر کی سطح پر برقرار ہیں، تاہم اس شعبے میں مزید بہتری کے لیے اقدامات کرنا ہوں گے۔ انہوں نے بتایا کہ توانائی، سرکاری اداروں، ٹیکس نظام اور نجکاری سمیت اہم شعبوں میں اصلاحات کا عمل جاری ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومت کا مقصد معاشی استحکام کو وقتی کامیابی تک محدود رکھنے کے بجائے اسے مستقل بنیادوں پر مضبوط کرنا اور ملک کو پائیدار ترقی کی راہ پر گامزن کرنا ہے۔









