کارساز حادثہ کیس: نتاشا منشیات کے مقدمے میں بری

کراچی: سٹی کورٹ نے کارساز ٹریفک حادثے سے متعلق منشیات کے مقدمے میں ملزمہ نتاشا کو بری کر دیا۔
کراچی کی سٹی کورٹ میں کارساز حادثہ کیس کی سماعت کے دوران عدالت نے نتاشا کے خلاف منشیات کے استعمال سے متعلق مقدمے کا فیصلہ سنایا اور انہیں اس کیس سے بری کردیا۔
کارساز روڈ پر اگست 2024 میں پیش آنے والے حادثے میں ایک گاڑی کی زد میں آکر 60 سالہ عمران عارف اور ان کی 22 سالہ بیٹی آمنہ جاں بحق ہوگئے تھے، جبکہ حادثے میں دیگر افراد بھی زخمی ہوئے تھے۔
حادثے کے بعد پولیس نے گاڑی چلانے والی خاتون کو حراست میں لے کر واقعے کی تحقیقات شروع کیں۔ پولیس کے مطابق تفتیش کے دوران خاتون کے خلاف قتل بالسبب کا مقدمہ بھی درج کیا گیا تھا۔
تحقیقات کے دوران حاصل ہونے والی میڈیکل اور یورین رپورٹس میں مبینہ طور پر منشیات کے استعمال کے شواہد سامنے آنے کے بعد نتاشا کے خلاف الگ سے منشیات کے استعمال کا مقدمہ درج کیا گیا۔
بعد ازاں عدالت نے دس لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض ان کی ضمانت منظور کی تھی۔ نتاشا تقریباً 43 روز تک جیل میں رہنے کے بعد ستمبر 2024 میں رہا ہوئی تھیں، جبکہ سندھ ہائیکورٹ سے بھی منشیات کے مقدمے میں ضمانت حاصل کی گئی تھی۔
اب سٹی کورٹ نے منشیات کے مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے نتاشا کو بری کردیا ہے۔








