چھاپے کے دوران 6 لاکھ شہریوں کا بائیومیٹرک ڈیٹا برآمد، جعلی سمز اور اے ٹی ایم کارڈز کا انکشاف

0
15
چھاپے کے دوران 6 لاکھ شہریوں کا بائیومیٹرک ڈیٹا برآمد، جعلی سمز اور اے ٹی ایم کارڈز کا انکشاف

اسلام آباد: قومی سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) نے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا ہے کہ ایک کارروائی کے دوران ملزمان کے قبضے سے تقریباً 6 لاکھ شہریوں کے فنگر پرنٹس اور بائیومیٹرک معلومات برآمد کی گئیں۔

حکام کے مطابق فیصل آباد میں گرفتار کیے گئے ایک شخص کے پاس سے 195 فعال موبائل سمز، 16 اسمارٹ فونز اور مختلف بینکوں کے 81 اے ٹی ایم کارڈز بھی برآمد ہوئے۔

قائمہ کمیٹی کو بتایا گیا کہ چوری شدہ بائیومیٹرک معلومات اور غیر قانونی طور پر حاصل کی گئی سمز کو شہریوں کے خلاف مالی فراڈ سمیت مختلف جرائم میں استعمال کیا جا رہا تھا۔

پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کے چیئرمین نے کمیٹی کو آگاہ کیا کہ دوسرے افراد کے نام پر غیر قانونی طور پر جاری کی گئی ایک کروڑ 80 لاکھ سمز اب تک بند کی جا چکی ہیں، جبکہ ٹیلی کام کمپنیوں پر مجموعی طور پر ساڑھے 4 ارب روپے کے جرمانے عائد کیے گئے ہیں۔

حکام نے یہ بھی تسلیم کیا کہ بعض موبائل کمپنیوں کے اندر موجود اہلکاروں پر ڈیٹا غیر قانونی طور پر فراہم کرنے کے الزامات سامنے آئے ہیں۔ بریفنگ میں راجن پور کا واقعہ بھی بیان کیا گیا، جہاں مبینہ طور پر راشن کی فراہمی کے بہانے ایک خاتون سے بائیومیٹرک تصدیق کروا کر اس کے نام پر سم حاصل کی گئی، جو بعد میں دہشت گردی کے ایک معاملے میں استعمال ہوئی۔

قائمہ کمیٹی کے چیئرمین خرم نواز نے بتایا کہ شہریوں کو جعلی کورئیر کالز کے ذریعے مسلسل نشانہ بنایا جا رہا ہے، جبکہ واٹس ایپ اکاؤنٹس ہیک ہونے کی شکایات بھی سامنے آ رہی ہیں۔

وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے کمیٹی کو بتایا کہ ملک میں بینک اکاؤنٹس کرائے پر دینے کا رجحان بھی سامنے آیا ہے۔ ان کے مطابق بعض افراد مالی فائدے کے عوض اپنا اکاؤنٹ دوسروں کو استعمال کرنے دیتے ہیں، جس کے نتیجے میں ان اکاؤنٹس کو غیر قانونی رقوم کی منتقلی اور فراڈ کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ سائبر جرائم، غیر قانونی سمز اور بائیومیٹرک ڈیٹا کے غلط استعمال کی روک تھام کے لیے کارروائیاں مزید تیز کی جا رہی ہیں۔

Leave a reply